Why was man created
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
کمیونی کیشن صرف افسانوی کبوتر کے ذریعے متصور ہوتا تھا وہ اب جدید کمیونی کیشن کے ذریعے ایک عملی واقعہ بن چکا ہے۔
یہی معاملہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے کے تمام خواب آج بظاہر واقعہ بن چکے ہیں۔ قدیم زمانے کے افسانوی شہر اب بظاہر عملاً بنائے جاچکے ہیں جن کے اندر دنیا بھر میں عورت اور مرد رہ رہے ہیں۔ قدیم زمانے کی افسانوی زندگی اب بظاہر واقعہ بن چکی ہے۔ لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کا سوال ہے، انسان آج بھی حقیقی خوشی حاصل نہ کرسکا۔ درخت کی شاخوں پر چہچہانے والی چڑیاں خوش ہوں گی لیکن انسان اب بھی خوشی سے محروم ہے۔ آج دنیا کے بازار میں ہر چیز مل سکتی ہے، مگر سکون کا سرمایہ کسی بازار میں میسر نہیں۔ اس الم ناک صورتِ حال کا واحد سبب ایک ہے۔ اور وہ ہے — صرف ،قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) کو سامنے رکھ کر زندگی کو اکسپلین کرنے کی کوشش کرنا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ایک بعد از موت دورِ حیات (post-death period) ہے، اور اس ابدی دورِ حیات کو شامل کیے بغیر زندگی کی اطمینان بخش توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ — قبل از موت دور، اور بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی مدتِ حیات گویا فصل بونے کی مدت ہے، اور بعد از موت دور کی مدتِ حیات گویا پھل حاصل کرنے کی مدت۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ فصل کے بغیر پھل نہیں اور پھل کے بغیر زراعت کی کوئی معنویت نہیں۔ انسانی زندگی کے اس معاملے کو جانے بغیر، انسانی زندگی کی اطمینان بخش توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues