انسان کی کہانی
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳
جاتی۔ حتی کہ حیوانات میں بھی نہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان ہے: Man is a thinking animal. اس اعتبار سے دیکھیے تو انسان کی شخصیت دو چیزوں پر مشتمل ہے ــــــ غیر تفکیری جسم، اور تفکیری روح۔ جو لوگ اپنے امکانات کو محدود طور پر صرف مادی دائرے میں استعمال کریں وہ گویا اپنے وجود کے غیر تفکیری حصے کی تو خوب تزئین کر رہے ہیں لیکن اپنے وجود کے تفکیری حصے کی ترقی کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ موت سے پہلے کی اپنی تمام عمر جسمانی ترقی (physical development) میں صرف کر دیتے ہیں، اور جہاں تک ذہنی ترقی (intellectual development) کی بات ہے وہ اس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں پر جب موت آتی ہے تو اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسی طرح مر جاتے ہیں جس طرح کوئی حیوان مرتا ہے، یعنی اپنے جسم کو خوب فربہ بنانا، اور اگلے دورِ حیات میں اس طرح داخل ہونا کہ ان کا ذہن تمام ترقیوں سے محروم ہو اور اگلے دورِ حیات میں طویل حسرت کے سوا کچھ اور ان کے حصے میں نہ آئے۔ اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں ،بشمول حیوانات، صرف اپنے آج (today) میں جیتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو کل کا شعور رکھتا ہے، اور کل کو نشانہ بنا کر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ گویا کہ بقیہ چیزیں صرف حال (present) میں جیتی ہیں اور انسان استثنائی طور پر مستقبل (future) میں۔ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ لوگ بدترین محرومی کا شکار ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو صرف آج کی چیزوں کے حصول میں لگا دیں اور اپنے کل کی تعمیر کے لیے وہ کچھ نہ کریں۔ ایسے لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں بظاہر خوش نما دکھائی دے سکتے ہیں لیکن موت کے بعد کی زندگی میں وہ محرومی کی بدترین مثال بن جائیں گے۔ کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی میں جو چیز کام آنے والی ہے وہ ذہنی اور روحانی ترقی ہے نہ کہ دنیوی مفہوم میں مادی ترقی۔
اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر لامحدود خواہشیں رکھتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ہر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues