Al-Risala · March 2008 · page 44

جھوٹ کی دو قسم

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴

جھوٹ کی دو قسم

جھوٹ کی ایک قسم وہ ہے جس کو برہنہ جھوٹ، یا کذب صریح کہا جاتا ہے، یعنی جان بوجھ کر ایک سراسر خلاف واقعہ بات کہنا۔ مثلاً ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک لیڈر صاحب کے پاس ایک شخص اپنے کسی کام کے لیے آیا۔ اس کام کا تعلق ایک منسٹر سے تھا۔ انھوں نے فوراً ٹیلی فون پر کچھ نمبر ڈائل کیے۔ اس کے بعد انھوں نے رسیور اٹھایا اور ہلو کرکے اس طرح بات کرنے لگے، جیسے کہ وہ متعلق منسٹر سے بات کر رہے ہیں۔ بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک جھوٹا ڈراما تھا۔ اس جھوٹے ڈرامے کے ذریعے انھوں نے آنے والے کو یہ تاثر دیا کہ اُن کا قریبی تعلق منسٹر صاحب سے ہے، اور وہ اُن سے براہ راست بات کر سکتے ہیں۔ یہ برہنہ جھوٹ کی ایک مثال ہے۔

جھوٹ کی دوسری قسم وہ ہے جس کو بالواسطہ جھوٹ، یا کذب خفی کہا جا سکتا ہے۔ کذب صریح کا ارتکاب تو بہت کم لوگ کرتے ہیں، لیکن جہاں تک کذب خفی کا تعلق ہے، غالباً بتا نوے فیصد سے بھی زیادہ لوگ اس بُرائی میں مبتلا ہیں۔ کذب خفی کی بُرائی موجودہ سماج میں اتنا زیادہ عام ہو چکی ہے کہ لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر شعوری طور پر وہ نہیں جانتے کہ وہ ایک ایسی عادت کا شکار ہیں جو حقیقتاً ایک مہلک جھوٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔

کذب خفی کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بات کو ٹھیک ٹھیک بیان نہ کیا جائے، بلکہ اُس کو بدلی ہوئی صورت میں بیان کیا جائے۔ ایسا کب ہوتا ہے، اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً اپنی صفائی پیش کرنا، اپنے کو سماج میں اچھا بنائے رکھنا، اپنے آپ کو بدنامی سے بچانا، اپنے لوگوں کو دوسروں کی نظر میں اونچا دکھانا، اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرنا، غیر ضروری طور پر کسی چیز کا کریڈٹ لینا، اپنی غلطی کو نہ ماننے کے لیے اصل بات کو بدل کر پیش کرنا، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام صورتوں میں آدمی بات کو صاف طور پر بیان نہیں کرتا، مگر یہ سب بلا شبہ جھوٹ کی صورتیں ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر کمزور شخصیت (weak personality) پرورش پاتی ہے، اور کمزور شخصیت ہی کا دوسرا نام منافقانہ شخصیت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page