صلاۃ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲
صلاۃ کلچر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بین العبد والکفر ترک الصلوۃ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان)۔ یعنی نماز کسی آدمی کے اسلام کی پہچان رہے، اور کسی آدمی کا اسلام سے نکل جانا یہ ہے کہ وہ نماز کی عبادت ترک کردے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دین میں نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ پنج وقتہ نماز دراصل اعترافِ خداوندی کی عملی صورت ہے۔ نماز کے تمام اجزا بندے کی طرف سے اپنے رب کے اعتراف کو ممثّل (symbolize) کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے نماز عبادتِ الہی کی کامل صورت ہے۔ نماز میں وہ تمام اجزا مکمل طور پر پائے جاتے ہیں جو عبادت کی نسبت سے انسان سے مطلوب ہیں۔ نماز کو رات اور دن کے درمیان پانچ مخصوص اوقات کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بے حد اہم ہے۔ اس طرح نماز کو کسی انسان کے لیے اس کے لازمی روٹین (compulsive routine) میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حالات کے زیر اثر، انسان بار بار عذر (excuse) لیتا ہے اور وہ نماز جیسی عبادت کی پابندی نہ کرسکے۔ نماز کی عبادت کے لیے باجماعت نماز کا نظام مقرر کرنا گویا کہ اُس کو ایک مکمل کلچر کا درجہ دے دینا ہے۔ اس طرح باجماعت نماز اپنے متنوع پہلوؤں کے ساتھ انسان کی پوری زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ باجماعت نماز کی پابندی کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت کو انسان کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ انسان کی پوری زندگی کے لیے نماز ایک قسم کے ریگولیٹر (regulator) کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ نماز کسی انسان کی زندگی کو خدا رخی زندگی بنا دیتی ہے۔
نماز ابتدائی طور پر ایک انفرادی عبادت ہے، لیکن جب کچھ لوگ مسجد پہنچ کر وہاں امام کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو نماز اُن کی زندگی کے لیے گویا اجتماعی شیرازہ بن جاتی ہے۔ ان متنوع فوائد کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی نماز کو اپنی زندگی میں لازمی طور پر شامل کرلے۔ اگر بالفرض آدمی کو خشوع کی نماز حاصل نہ ہو، تب بھی اس کے لیے نماز کی ادائیگی ضروری ہے۔ کیوں کہ نماز یاد دہانی کے لیے ہے (طه: 14) اور یاد دہانی کا فائدہ پھر بھی آدمی کو حاصل ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues