Al-Risala · May 2008 · page 38

سوچ کا فرق

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۸

سوچ کا فرق

ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ وہ ایک بڑے دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انھوں نے غم زدہ لہجے میں مجھ سے کہا کہ میرے لیے دعا کیجئے۔ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب میں مجبور ہوں کہ تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر گھر واپس جاؤں، کیوں کہ والد کے بعد میرے سوا کوئی اور گھر کو سنبھالنے والا نہیں۔

میں نے سنا تو اچانک میری زبان سے نکلا۔ اگر آپ بھی مر جائیں تو۔ میرا یہ جملےہ مذکورہ طالب علم کے لیے ایک فکری بھونچال ثابت ہوا۔ اس کو سن کر ان کی سوچ کا رخ اچانک بدل گیا۔ وہ چند منٹ چپ رہے اور پھر انھوں نے کہا کہ اب میں گھر نہیں جاؤں گا۔ اب میں گھر کے معاملے کو خدا کے حوالے کرتے ہوئے بدستور اپنے اس تعلیمی ادارے میں رہوں گا، اور پہلے سے بھی زیادہ محنت کے ساتھ اپنی تعلیم کو مکمل کروں گا۔ اس کے بعد وہ خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔ تقریبا دس سال کے بعد دوبارہ اُن سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ایک جمل نے میری زندگی بدل دی۔ اُس کے بعد میں نے اپنی تعلیم میں بہت زیادہ محنت کرنا شروع کر دیا۔ میں نے عربی کے ساتھ انگریزی بھی سیکھی۔ انڈیا میں تعلیم سے فارغ ہو کر میں باہر کے ایک ملک میں چلا گیا۔ وہاں میں نے کافی پیسہ کمایا۔ میں نے اپنے آبائی گھر کو دوبارہ تعمیر کروایا، بھائیوں کو پڑھایا، اور بہنوں کی شادی کی۔ اللہ نے میرے تمام کاموں کو درست کر دیا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سوچ کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں بحرانی واقعات پیش آتے ہیں۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر پختہ سوچ ہو۔ وہ کرائس منیجمنٹ (crisis management) کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ بحران کے موقع پر منفی سوچ (negativ thinking) کا شکار نہ ہو، بلکہ وہ مثبت سوچ (positive thinking) کا ثبوت دے سکے، ایسے ہی لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیابی دراصل صحیح طرز فکر کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page