ایک علمی ملاقات
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹
کیا جاتا ہے۔ یہی استنباطی استدلال اب خدا کے وجود کو علمی طور پر ثابت کرنے کے لیے بھی حاصل ہوگیا ہے۔ چناں چہ برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) نے ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی استدلال قرار دیا ہے۔
میری اس بات کو سن کر ڈاکٹر رچرڈ نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ موجودہ طبیعیاتی علماء (physicists) اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کائنات کی حد درجہ معنویت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ موجودہ کائنات کسی ذہن (mind) کی تخلیق ہے، لیکن علماء حیاتیات (biologists) اس کی تائید نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا صحیح ہے، لیکن علماء حیاتیات کی یہ رائے کسی سائنسی حقیقت پر مبنی نہیں، ان کی یہ رائے تمام تر ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ چارلس ڈارون (وفات: 1802) نے اس معاملے میں ایک غلط مفروضہ پیش کیا اور پھر تمام لوگوں نے اس مفروضے کو بطور حقیقت مان لیا۔ ڈارون نے زندگی کے مختلف نمونوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اُس نے پایا کہ ہماری زمین پر بہت سی انواع حیات (species) پائی جاتی ہیں، مگر ان کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ مثلاً بلی اور شیر کے ڈھانچے میں مشابہت، بکری اور زرافہ کے ڈھانچے میں مشابہت، انسان اور بندر کے ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں (similarities) کو لے کر ڈارون نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ یہاں نیچرل سلیکشن (natural selection) کے اصول کے تحت، ایک ارتقائی عمل (evolutionary process) ہوا ہے۔ اس ارتقائی عمل کے تحت، ایک نوع دوسری نوع میں خود بخود تبدیل ہو رہی ہے۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں ڈارون کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مختلف انواع حیات کے درمیان ان مشابہتوں کی غلط توجیہہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مشابہتیں زندگی میں تنوع (varieties) کو بتاتی ہیں، نہ کہ مفروضہ ارتقائی عمل کو۔ ہم متنوع اقسام حیات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے تنوع کا نظریہ اپنے آپ ثابت شدہ ہے۔ اس کے مقابلے میں ارتقائی عمل کا تصور محض ایک قیاس ہے، جس کے حق میں کوئی واقعی ثبوت موجود نہیں۔ انھوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues