مسجد وار دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱
مسجد وار دعوت
ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میں نے دنیا بھر میں مختلف ملکوں کا سفر کیا۔ میں نے پایا کہ دوسری قوموں کے لوگ جہاں جہاں گئے، وہاں انھوں نے بڑے بڑے قلعے بنائے، لیکن مسلمان جب عرب سے نکل کر دنیا کے مختلف ملکوں میں داخل ہوئے تو انھوں نے ہر جگہ مسجدیں بنائیں ۔ یہ مسجدیں گویا کہ اسلام کے مراکز ہیں۔ اسلام کی حیثیت ایک غیر سیاسی ایمپائر کی ہے، اور یہ مسجدیں گویا کہ عالمی سطح پر قائم اس غیر سیاسی ایمپائر کی شاخیں ہیں جو ساری دنیا میں تقریباً ہر شہر اور ہر بستی میں موجود ہیں۔ یہ مسجدیں ایک اعتبار سے اسلام کی عبادت گاہیں ہیں، دوسرے اعتبار سے یہ مسجدیں اسلام کے دعوتی مراکز ہیں۔ ان مسجدوں کے ذریعے جس طرح عالمی سطح پر نماز کا نظام قائم ہے، اسی طرح ان مسجدوں کے ذریعے اسلام کی عالمی دعوت کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ اور عیدین کا دن اس مقصد کے لیے بہت زیادہ موزوں ہے۔ ان دنوں میں مسلمان بڑی تعداد میں ان مسجدوں میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ عالمی سیاح (tourists) بھی اپنے سفر کے دوران ان مسجدوں میں برابر آتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذریعے اسلام کی دعوت تیزی سے عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے۔ دعوت، اہل ایمان پر اسی طرح فرض ہے، جس طرح نماز ان کے اوپر فرض ہے (البقرہ: 143)۔ مسجد ان دونوں فرائض کی ادائیگی کے لیے فطری مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلامی مرکز نے اور گڈورڈ (Goodword) نے اور سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) نے بڑی تعداد میں پمفلٹ اور بروشر خوب صورت انداز میں چھپوائے ہیں۔ ان میں اسلام کی تعلیمات کو سادہ اور عصری اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ پمفلٹ اور بروشر اردو اور ہندی اور انگریزی زبان میں بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔ مسجدوں کے امام اس دعوتی مہم میں نہایت آسانی کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔ وہ اس لٹریچر کو منگوا کر اپنے یہاں رکھیں اور آنے جانے والے لوگوں کے درمیان اُن کو تقسیم کریں۔ اس طرح مسجدوں کے امام بیک وقت دو کام کر سکتے ہیں— نماز کی امامت، اور دعوتِ اسلامی کی اشاعت۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues