ہر گھر دعوتی مرکز
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳
ہر گھر دعوتی مرکز
حضرت موسیٰ کا زمانہ پندرہویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے، یعنی اب سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ۔ وہ قدیم مصر میں پیغمبر بنائے گئے۔ اُس وقت مصر میں بنی اسرائیل چند لاکھ کی تعداد میں آباد تھے۔ وہ گویا اُس زمانے کے اہل ایمان تھے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کو ایک حکم دیا گیا، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اجعلوا بیوتکم قبلة (یونس : 87) یعنی تم اپنے گھروں کو قبلہ بنالو۔ ’’اپنے گھروں کو قبلہ بنالو‘‘ کا حکم دینے کا مطلب یہ تھا کہ اگر میکسَم (maximum) صورت ممکن نہ ہو، تو مینمم (minimum) صورت تو ہر حال میں ممکن ہوتی ہے، اور تم کو اس حکمت کو اختیار کرنا چاہیے۔ قبلہ اُس مرکزی جگہ کو کہتے ہیں، جس کی طرف توجہ کی جائے۔ جو لوگوں کے لیے فوکس آف اٹینشن (focus of attention) یا سنٹر آف اٹینشن (centre of attention) کی حیثیت رکھتا ہو۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے گھروں کو اپنے لیے دعوتی اور تربیتی عمل کا مرکز بنالو۔ یہ ایک تدبیر تھی، اور یہ تدبیر ہر زمانے میں اور ہر مقام پر مطلوب ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی ہمیں دعوتی عمل کو مستحکم کرنے کے لیے یہی کام کرنا ہے۔ وہ تمام لوگ جو کہ دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتے ہیں، اُن پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ اُن میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام پر اس قسم کا ’’قبلہ‘‘ بنائے۔ گھروں کو قبلہ بنانے کا حکم جو بنی اسرائیل کو دیا گیا، وہ گویا کہ اس معاملے کی آخری ممکن صورت تھی۔ بلاشبہ یہ ایک ایسی صورت تھی، جو ہر ایک کے لیے اور ہمیشہ ممکن ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر لائبریری کے نام سے ایک جگہ بنائے، خواہ اپنے گھر کے اندر، یا اپنے گھر کے باہر۔ حتیٰ کہ اگر کسی کے پاس ایک کمرے کا گھر ہو، تب بھی وہ اس کے ایک حصے میں کتابوں کی الماری کھڑی کرکے اس کو لائبریری کی صورت دے سکتا ہے۔ یہ لائبریری عملاً دعوت اور تربیت کا ایک مرکز ہوگی۔ ضرورت ہے کہ اس طرح کے مراکز دعوت ہر جگہ قائم کیے جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues