مسجد ایک دعوتی مرکز
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳
میں تھے۔ ان میں اسلام کی تعلیمات کو مؤثر اسلوب میں بیان کیا گیا تھا۔
نماز کے خاتمے کے بعد یہ افراد یا گیٹ پر کھڑے ہو گئے، یا مسجد کے اندر پھیل گئے۔ لوگوں نے نہایت شوق سے پاکٹ سائز کے ان خوب صورت کتابچوں کو لیا۔ تقریباً پچاس فی صد لوگوں نے اردو پمفلٹ حاصل کئے۔ ہر ایک ان کو لیتے ہوئے فوراً اُن کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس طرح دہلی کی مختلف مسجدوں میں بڑی تعداد میں پفلٹ تقسیم کیے گئے۔ اس طرح عید الفطر کے دن مسجد وار دعوتی تحریک کا ایک نیا تجربہ ہوا، وہ یہ کہ مسجد میں آنے والے تعلیم یافتہ لوگ جواب تک دعوت کی پہنچ سے باہر دکھائی دیتے تھے، وہ بھی دعوت کی پہنچ کے دائرے میں آگئے۔ مسجد کی صورت میں دعوتی موقع جو اس سے پہلے عوام کے اعتبار سے استعمال ہورہا تھا، وہ اب خواص کے اعتبار سے بھی استعمال ہونے لگا۔ تعلیم بالقدم کا طریقہ جن لوگوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا، تعلیم بالقلم کا طریقہ اُن لوگوں تک بھی پہنچ گیا۔ کتاب یا لٹریچر کے طریقے کا ایک اور فائدہ ہے، وہ یہ کہ تعلیم بالقدم کے مقابلے میں تعلیم بالقلم کا طریقہ اپنے اندر زیادہ وسیعی امکان رکھتا ہے۔ تعلیم بالقدم میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے اور دوسرا آدمی سنتا ہے۔ لیکن تعلیم بالقلم میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک شخص کو ایک کتاب دے دیتے ہیں۔ وہ اس کو لے کر اپنے ماحول میں جاتا ہے۔ پھر دوسرے بہت سے لوگ اُس سے کتاب کو لے کر پڑھتے ہیں۔ پھر مزید دوسرے لوگ کتاب کو حاصل کر کے اُس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ تعلیم بالقدم میں دعوت کی رفتار اگر ارتهمیٹک رفتار (arithmetic progression) سے بڑھتی ہے، تو تعلیم بالقلم کی صورت میں دعوت جیومیٹرک رفتار (geometric progression) سے بڑھنے لگتی ہے۔ دعوت کا یہ تجربہ خدا کے فضل سے نہایت کام یاب تجربہ تھا۔ ضرورت ہے کہ ہر مقام پر اسی طرح عمل کیا جائے ۔ مسجدیں ہندوستان میں اور ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر مسجد میں لوگ نماز کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ جمعہ اور عیدین کے موقع پر یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر جگہ کے لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس قسم کے پمفلٹ لے کر مسجدوں میں پہنچ جائیں اور نماز کی ادائیگی کے بعد اُن کو نمازیوں کے درمیان تقسیم کریں۔ یہ بلاشبہ ایک کام یاب دعوتی طریقہ ہے۔ اس کو ہر ملک کی مسجد میں کام یابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues