اسلام کیا ہے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱
اسلام کیا ہے
اسلام کا آغاز کلمہ شہادت سے ہوتا ہے، یعنی زبان سے ان الفاظ کو ادا کرنا: أشهد أن لا إله إلا الٰہ، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں)۔ گواہی یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر ایک بیان دے:
Giving a statement on the basis of direct knowledge. اسلام کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا متلاشی ہو، وہ تلاش و جستجو کے بعد سچائی کی دریافت کرتا ہے۔ اُس کا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ جو چیز میں نے دریافت کی ہے، وہ کامل سچائی ہے۔ اُس وقت فطری طور پر وہ یہ کرتا ہے کہ جس حقیقت کو اُس نے دل و دماغ کی سطح پر پایا ہے، اُس کا اعلان وہ اپنی زبان سے کرے۔ کلمہ شہادت اعلانِ معرفت ہے، نہ کہ محض تکرارِ الفاظ۔ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں، صرف معبودیت کے معانی میں ہے، یعنی خدا ہی معبودِ حقیقی ہے۔ وہی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، وہی روزِ جزا کا مالک ہے، کسی بھی اعتبار سے کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں۔ لا إله إلا الله کا مطلب ہے: لا معبودَ إلا الله، لیکن کچھ لوگوں نے خود ساختہ طور پر اُس میں نئے معنی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً کچھ لوگ وحدتِ وجود (monism) کے نظریے سے متاثر ہوئے۔ اُنھوں نے اپنے اس تصور کو اسلامی عقیدے میں شامل کرنے کے لیے کہا: لا موجودَ إلا الله، یعنی جس طرح خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی طرح خدا کے سوا کوئی اور موجود نہیں۔ اسی طرح کچھ اور لوگوں نے اس عقیدے میں سیاست کو شامل کرنا چاہا تو اُنھوں نے کہہ دیا کہ: لا حاكمَ إلا الله، یعنی خدا جس طرح فوق الفطری معنی میں معبود ہے، اِسی طرح وہ سیاسی معنی میں حاكم بھی ہے۔ اس طرح کے تمام اضافے بلاشبہ باطل ہیں، یہ اسلام میں تحریف کے ہم معنی ہیں۔ لا الله إلا الله کا کلمہ، عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور عقیدے میں قياس اور استنباط اور اجتہاد سرے سے جائز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues