Al-Risala · August 2008 · page 14

سوچیے، سوچیے، سوچیے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴

موت کا تجربہ۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کر کے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص با اصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اس حقیقت کو پالے گا کہ موت در اصل خالق کے سامنے حاضری کا دن ہے۔ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے— موت سے قبل کی مدت حیات (pre-death period)، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات (post-death period)۔ موت سے پہلے کی مدتِ حیات امتحان (test) کے لیے ہے، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات اُس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا پانے کے لیے۔

انسان آج اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ اور با شعور وجود کی صورت میں پاتا ہے۔ یہ زندہ اور با شعور وجود ایک مستقل وجود ہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ یہ زندہ اور با شعور وجود اپنی اسی موجودہ صورت میں عارضی دنیا سے نکالا جاتا ہے اور اس کو اسی زندہ اور با شعور وجود کی حالت میں اگلی مستقل دنیا کی طرف منتقل (transfer) کر دیا جاتا ہے۔

یہ لمحہ ہر عورت اور مرد پر لازماً آنے والا ہے۔ وہ ناقابل قیاس حد تک سنگین لمحہ ہوگا۔ موت کے بعد آنے والے اس دورِ حیات میں یہی موجودہ انسان ہوگا، لیکن اس کے تمام اسباب اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جو اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گئی، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں اس کو کامل بے سروسامانی کے ساتھ ابدی طور پر رہنا ہے۔ دانشمند وہ ہے جو اس آنے والے دن کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page