Al-Risala · January 2008 · page 37

نیا دعوتی امکان

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷

نیا دعوتی امکان

اسلام کا آغاز تاریخی طور پر 610 عیسوی میں ہوا۔ اسلام سادہ طور پر ایک مذہب نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام ایک آڈیالا جیکل رفارم (ideological reform) تھا، مگر قانون فطرت کے مطابق، اسلام کا کلی ظہور ابتدائی زمانے میں نہیں ہوا، جو ہو ؤ اوہ یہ تھا کہ دور اول میں ہونے والے اسلامی انقلاب نے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کر دیا۔ اس پر اسس کی تکمیل بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ہوئی، حتی کہ اب اسلام کا آڈیالا جکل رفارم اپنی کامل صورت میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کے پاس سوچنے کے لیے صرف توہماتی فریم ورک (superstitious framework) موجود تھا۔ اس بنا پر انسان نے بہت سے مصنوعی نظریات بنا لیے۔ ان مصنوعی نظریات کے تحت انسان کا جو ذہنی شاکلہ بنا تھا، وہ اسلام کے آڈیالا جکل رفارم کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ جدید سائنس سے پہلے کا پورا دور اسی حالت میں گزر گیا۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد نیا فریم ورک بنا ہے، جس کو سائنٹفک فریم ورک (scientific framework) کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان، اسلام کی دی ہوئی آڈیالوجی کو بھر پور طور پر سمجھ سکے۔

یہ واقعہ اسلام کے لیے ایک بے حد مفید تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے، یعنی مبنی بر فطرت مذہب۔ قدیم زمانے میں چوں کہ انسان کا فکر فطرت کی شاہ راہ سے ہٹ گیا تھا ۔ انسان غیر فطری اوہام میں مبتلا تھا۔ اس بنا پر اسلام کا پیغام لوگوں کے لیے نا قابل فہم بن گیا تھا۔ اب اس قسم کی تمام فکری رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔ جدید سائنس نے جو کچھ کیا، وہ اپنے نظریے کے تحت کیا، لیکن وہ اسلام کے لیے بے حد مددگار بن گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی دعوت کو فطرت کی زبان میں پیش کیا جائے اور انسان اُس کو آسانی کے ساتھ سمجھے اور اس کو قبول کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page