شرک کی بے ثباتی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
شرک کی بے ثباتی
شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ انسان، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتا ہے، تو وہ اپنے لیے نہایت بُرے بدل کا انتخاب کرتا ہے: بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلاً (الكهف : 50) (یعنی یہ کتنا زیادہ بُرا بدل ہے ظالموں کے لیے؛ How bad substitute they have chosen (18:50)
یہ آیت گویا کہ پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ انسان نے بار بار ایسا کیا ہے کہ اُس نے خدا کے سوا، کسی اور کو اپنے لیے معبود کا درجہ دیا۔ لیکن ہر بار یہ ثابت ہوا کہ انسان کا انتخاب (choice) نہایت بُرا انتخاب تھا۔ ایک اللہ کے سوا، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کو اپنا معبود بنایا جائے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک انسان، نیچر کو معبود کا درجہ دیتا رہا۔ چناں چہ دنیا میں عمومی طور پر وہ نظام پرستش رائج ہوا جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ، دریا، سمندر اور دوسری چیزوں کے بارے میں انسان نے یہ فرض کر لیا کہ اُن کے اندر اُلوہیت (divinity) موجود ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر، نیچر کی ہر چیز انسان کے لیے قابلِ پرستش بن گئی۔ جدید سائنس کے زمانے میں نیچر کی ہر چیز کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا، ہر چیز کا آزادانہ مطالعہ کیا جانے لگا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیچر صرف نیچر ہے، اُس میں کسی بھی قسم کی الوہیت (divinity) موجود نہیں۔ اس دریافت کے بعد فطرت پرستی (nature worship) کا افسانہ ختم ہو گیا۔ نیچر نے معبود ہونے کی حیثیت کو کھو دیا۔
اس کے بعد موجودہ زمانے میں صنعتی تہذیب (industrial civilization) کا دور شروع ہوا۔ اس جدید تہذیب سے انسان کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں، جو اُس کو پہلے نہیں ملی تھیں۔ جدید تہذیب کی اس کامیابی نے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر دیا۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ جدید صنعتی تہذیب، اُن کے لیے معبود کا بدل (substitute) ہے۔ جدید تہذیب سے لوگوں کو وہی تعلق قائم ہو گیا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues