شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴
شکر ایک اعلیٰ عبادت
شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فل نیس (gratefulness) کہا جاتا ہے۔ عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب کے مطابق ، شکر احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام ہے (الشکر : عرفان الإحسان ونشره ، 4/423)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے ۔ نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشکر : تصور النعمة وإظهارها، صفحہ: 265)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ شکر نام ہے ۔ احسان کی معرفت کا اور اس کا چرچا کرنے کا (الشکر : معرفة الإحسان والتحدث به، 2/172)۔
نعمت کا اعتراف (acknowledgement) ایک اعلی انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو، تو اسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایا: رَبِّ اجعلني لك شكاراً (الترمذی، کتاب الدعوات؛ ابن ماجة، كتاب الدعاء؛ مسند احمد، جلد 1، صفحہ: 227) یعنی اے میرے رب، تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔
قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو، خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔ آغاز حیات میں اُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا: ولا تجد أكثرهم شاكرين : And you will not find most of them grateful (7:17). قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues