Al-Risala · October 2008 · page 8

روزہ کی عظمت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۸

روزہ کی عظمت

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، و فرحة عند لقاء ربه، و لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، والصيام جُنة، و إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث و لايصخب، فإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إنى امرؤ صائم (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب: فضل الصيام)۔

انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بدگوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے ۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لئے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے (البقرۃ: 185)۔ اس کے مطابق، نزولِ قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page