روزہ : ایک زندہ عمل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲
روزہ : ایک زندہ عمل
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن نَسِيَ وہو صائم فأكل أو شرب، فليتم صومه۔ فإنما أطعمه الله وسقاه (صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب : أكلُ النّاسي) یعنی جو شخص روزہ رکھے اور وہ بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیوں کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو کھلایا اور پلایا۔ روزہ اگر خالص قانونی نوعیت کی چیز ہو تو بظاہر ایسا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں ہو اور دن کے اوقات میں کبھی وہ بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے۔ روزہ اگر صرف ایک ظاہری صورت کا نام ہو تو دن کے وقت کچھ کھانے یا پینے سے ہر حال میں اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے، خواہ اس نے جان کر کھایا ہو، یا بھول کر کھایا ہو۔ قانونی نوعیت کی چیزوں کے بارے میں مشہور مقولہ ہے کہ قانون سے بے خبری کسی کے لیے عذر نہیں:
Ignorance of law has no excuse.
پھر کیا وجہ ہے کہ حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ روزہ کوئی ٹیکنکل نوعیت کا قانونی فعل نہیں، روزہ ایک زندہ انسان کا عمل ہے۔ زندہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً اُس کے اندر ایک نئی سوچ جاگ اُٹھتی ہے۔ یہ نئی سوچ اس کی بھول کو ایک مثبت عمل بنا دیتی ہے۔ وہ اس بھول میں اپنے عجز اور خدا کی قدرت کو دریافت کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ کم زور ہے، اُس کے مقابلے میں خدا کتنا زیادہ قوی اور عزیز ہے کہ وہ کبھی کسی چیز کو نہیں بھولتا (لا يَضِلُّ رَبّي ولا ينسى)۔ یہ دریافت ایک زندہ انسان کو خدا سے اور زیادہ قریب کر دیتی ہے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ جو غلطی ، معرفت میں اضافے کا سبب بن جائے، وہ غلطی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ ربانی تجربہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues