Al-Risala · October 2008 · page 26

روزہ اور تزکیۂ نفس

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

روزہ اور تزکیۂ نفس

روزہ ایک سچے انسان کے لیے ایک قسم کی یاددہانی (reminder) ہے، اس بات کی یاددہانی کہ تم خدا کی دنیا میں ہو تم ایک ایسی دنیا میں ہو جس کو خدا نے بنایا ہے۔ اس دنیا کے مالک تم نہیں ہو، بلکہ خدا اُس کا مالک ہے۔ یہاں تم اپنی مرضی کے ساتھ نہیں رہ سکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں کھا سکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں پی سکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں بول سکتے، یہاں تم کو خدا کی مرضی کے مطابق رہنا ہے، نہ کہ خود اپنی مرضی کے مطابق۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس قسم کی روزہ دارانہ زندگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان، خدا کو معرفت (realization) کے درجے میں پائے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا کی اس دنیا میں بے قید زندگی گزارنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا راز پابند زندگی میں ہے، نہ کہ بے قید زندگی میں۔

رمضان کا مہینہ در حقیقت تزکیۂ نفس (purification of soul) کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینے کا یہ تقاضا ہے کہ آدمی اپنی زندگی پر پھر سے غور (reassessment) کرے، وہ اپنے معاملات کا از سر نو جائزہ لے، وہ اپنی دینی اور دعوتی زندگی کی از سر نو منصوبہ بندی (replanning) کرے، وہ اپنے دل و دماغ کی پھر سے تطہیر کرے، وہ اپنے اندر ایک نئی شخصیت کی تعمیر کرے، وہ دینی اور روحانی اعتبار سے، پورے معنوں میں، اپنا اوور ہال (overhaul) کرے ۔

یہی تزکیۂ نفس ہے اور یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔ جو شخص اس طرح رمضان کے شب و روز گزارے، وہی وہ شخص ہے جس نے رمضان کے مہینے کو پایا۔ اُسی شخص کا روزہ حقیقی روزہ ہے جو اس معنی میں اس کے لیے تزکیۂ نفس کا ذریعہ بن جائے۔ جائے۔ تزکیۂ نفس مومن کے لیے ایک مستقل عمل ہے۔ وہ مومن کی زندگی میں روزانہ جاری رہتا ہے۔ لیکن رمضان کے مہینے میں مزید شدت کے ساتھ تزکیۂ نفس کے اس عمل کو انجام دینا ممکن ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page