ختم قرآن ، یا تدبر قرآن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۴
ختم قرآن ، یا تدبر قرآن
رمضان کے مہینے میں ہر جگہ ختم قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ روزانہ تلاوت میں پڑھ کر قرآن کو ختم کرنا، تراویح میں قرآن کو ختم کرنا، وغیرہ۔ اس کی آخری صورت وہ ہے جس کو 'شبینہ' کہا جاتا ہے، یعنی ایک رات میں تراویح کے دوران پورے قرآن کو ختم کرنا۔ اس قسم کا ختم قرآن یقینی طور پر رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف ایک بدعت ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
حدیث سے ثابت ہے کہ بدعت کے ذریعے کبھی خیر کا ظہور نہیں ہوسکتا (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 105)۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا میں رمضان کے مہینے میں قرآن کو ختم کرنے کی دھوم ہوتی ہے، لیکن کہیں بھی اس قسم کا ختم قرآن، لوگوں کے اندر قرآنی اسپرٹ کو زندہ کرنے کا ذریعہ نہیں بنتا۔ قرآن کی سورہ نمبر 38 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته وليتذكر أولوا الألباب (ص : 29) یعنی قرآن ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اُس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد انسانی عقل کو ایڈریس کرنا ہے، تاکہ انسان سوچے اور وہ اُس کے گہرے معانی تک پہنچ سکے۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں، لیکن سارے قرآن میں کوئی ایک آیت بھی ایسی موجود نہیں جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اُس کے الفاظ کو دہرا کر اُس کو ختم کرتے رہو اور کم سے کم مدت میں قرآن کو ختم کر کے اُس کا جشن مناؤ۔
رمضان کا مہینہ، قرآن پر غور کرنے کا مہینہ ہے، نہ کہ اس کے الفاظ کو تیز رفتاری کے ساتھ دہرا کر اُس کو ختم کرنے کا مہینہ۔ قرآن، انسان کے لئے ایک ربانی غذا ہے، نہ کہ محض لسانی ورزش کا ذریعہ۔ یہ قرآن کی تصغیر (underestimation) ہے کہ اُس کو شبینہ جیسی خود ساختہ رسموں کا موضوع بنا دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues