Al-Risala · October 2008 · page 41

اللہ کے زیر حکم ہونے کا تجربہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

اللہ کے زیر حکم ہونے کا تجربہ

روزہ آدمی کو یہ تجربہ کرا تا ہے کہ وہ خدائے برتر کے ماتحت ہے۔ روزہ کے دوران آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف، اللہ کے حکم کو اپنے اوپر نافذ کرتا ہے۔ اس طرح وہ شعوری طور پر اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے—میں خداوند ذوالجلال کے ماتحت ہوں۔

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا یہ سب سے بڑا تجربہ ہے۔ اس طرح گویا کہ ایک بھولا ہوا انسان اپنے رب کے بارے میں زندہ شعور حاصل کرتا ہے۔ وہ لمبی غفلت کے بعد اپنے خالق اور مالک کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ یہاں ایک عظیم خدا ہے جو میرا معبود ہے اور میں اس کا ایک عاجز بندہ ہوں۔ میں اس دنیا میں آزاد نہیں ہوں، بلکہ میں ایک عظیم ہستی کے حکم کے ماتحت ہوں۔ مجھے اس عظیم ہستی کی اطاعت کرنا ہے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اس کی اطاعت کے لئے اپنی خواہشوں کو دبانا پڑے، اپنی آزادی کو ختم کرنا پڑے، اختیار رکھتے ہوئے خود اپنے ارادے سے اپنے آپ کو محکوم بنالینا پڑے۔ یہ رمضان کے روزہ کا سب سے بڑا پہلو ہے اور اسی کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ تقویٰ کا مطلب خدا شناسی (God-consciousness) ہے اور روزہ اس خدا شناسی کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ۔ روزے کا عمل جسمانی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ذہنی اور روحانی سطح پر کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ روزہ آدمی کے شعور کو تجربہ بناتا ہے ۔ روزہ آدمی کے اندر گہرے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات کو متحرک کرتا ہے۔ روزہ آدمی کی سوئی ہوئی روح کو جگا کر اس کو خدا سے قربت کا تجربہ کراتا ہے ۔ روزہ قادرِ مطلق کے مقابلے میں، اپنے عاجز مطلق ہونے کے واقعاتی ادراک کا سبب بنتا ہے۔ روزہ، آدمی کے قلب ودماغ کی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ روزہ متقیانہ زندگی کا ایک سالانہ ریہرسل (rehearsal) ہے۔ روزہ ایک تطہیری کورس ہے، جس سے گزر کر آدمی دوبارہ اُس پاکیزہ فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page