Al-Risala · October 2008 · page 43

روزہ دارانہ زندگی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳

روزہ دارانہ زندگی

ایک فارسی شاعر نے روزہ اور رمضان کے بارے میں اپنے تجربات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے_ روزے کا مقصد لوگوں کے اندر ریاضت کا مزاج پیدا کرنا تھا، مگر رمضان آیا تو ریاضت کے بجائے، لوگوں کے یہاں کھانے پینے کی دھوم میں اور اضافہ ہو گیا:

تن پروری خُلق فزوں شد، نہ ریاضت جو گرمیِ افطار، نہ دارد رمضان پیچ رمضان کے مہینے میں یہ منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے، مشرق اور مغرب اور عرب اور عجم کے درمیان اس معاملے میں کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ رمضان کا مہینہ کھانے پینے کی مزید سرگرمیوں کا مہینہ بن گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ صرف اُن لوگوں کے لیے روزے کا مہینہ بنتا ہے جو سال بھر روزہ دارانہ زندگی (Roza-oriented life) گزاررہے ہوں ۔ جو لوگ سال کے بقیہ مہینوں میں غیر روزہ دار بنے ہوئے ہوں، ان کے درمیان جب، رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ اُسی کلچر میں اضافے کا سبب بنے گا، جس کلچر میں وہ اس سے پہلے زندگی گزاررہے تھے۔ آج کل لوگوں کی زندگی کا مقصد یہ بن گیا ہے کہ خوب کماؤ اور اچھے اچھے کھانے کھاؤ۔ یہی تقریباً تمام لوگوں کی سوچ ہے اور یہی عملی طور پر لوگوں کا کلچر ہے۔ اسی قسم کی زندگی کے وہ پوری طرح عادی بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے سوازندگی کے کسی اور پیٹرن کو جانتے ہی نہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے کھانے پینے کے کلچر کی ایک توسیع کے ہم معنی ہوتا ہے۔ رمضان ان کے اُسی ذوق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے جس کے وہ اب تک عادی بنے ہوئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے لیے صرف افطار اور سحری کی دھوم کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اس لیے آتا ہے، تاکہ لوگوں کے اندر سادگی اور قناعت کا مزاج پیدا ہو، لوگوں کا اشتغال انسانوں کے درمیان کم ہو، اور اللہ کے ساتھ ان کے تعلق میں اضافہ ہو جائے، مگر عملًا یہ سب نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر روزہ دارانہ زندگی گزاریں، وہی رمضان کے مہینے میں سچے روزے دار بنیں گے_

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page