Al-Risala · November 2008 · page 10

رہبانیت، رہبانیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰

رہبانیت، رہبانیت

قرآن کی سورہ نمبر 57 میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں نے بعد کے زمانے میں رہبانیت کا طریقہ اختیار کر لیا، جس کی تعلیم ان کو پیغمبر کے ذریعے نہیں دی گئی تھی (الحدید: 27)۔ رہبانیت (monasticism) کیا ہے۔ رہبانیت دراصل، خدا کی طلب میں دنیا کو چھوڑنے کا نام ہے۔ اسی لیے ایسے افراد کو تارک الدنیا کہا جاتا ہے۔ رہبانیت کا فلسفہ یہ ہے کہ ترک دنیا سے خدا کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ اسی ذہن کے تحت لوگوں نے وہ طریقے ایجاد کیے جن کو تجرد اور میڈی ٹیشن اور مراقبہ، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اسی ذہن کی انتہا پسندانہ صورت یہ ہے کہ آدمی انسانی آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا جائے اور وہاں وہ روحانی ورزشوں کے ذریعے خدا کی قربت تلاش کرے۔ اسی کے اثر سے، مسلمانوں کے اندر تصوف یا صوفی ازم کا نظریہ پیدا ہوا۔ اسلام میں اس قسم کی رہبانیت نہیں (لا رَهْبَانِيَّةَ فِي الإِسْلام۔ مسند احمد، جلد 6، صفحہ 226)۔ اسلام کی رہبانیت فکری رہبانیت ہے، نہ کہ جسمانی یا مقامی رہبانیت، یعنی ذکر و فکر کی سطح پر خدا سے تعلق قائم کرنا، دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو کر زندگی گزارنا۔ اسی کو قرآن میں ربانیت (آل عمران : 79) کہا گیا ہے، یعنی خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا۔

قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے (الملک : 2)۔ یہاں ملنا بھی آزمائش ہے اور نہ ملنا بھی آزمائش۔ اسلامی رہبانیت یہ ہے کہ آدمی کی سوچ اتنی بلند ہو جائے کہ وہ دونوں حالتوں پر یکساں طور پر راضی رہے، وہ منفی تجربات کو بھی مثبت تجربے میں تبدیل کر سکے، وہ دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت کا طالب بن جائے، وہ انسانوں کے درمیان اس طرح رہے کہ ہر چیز اُس خدا کی یاد دلانے والی بنی ہوئی ہو۔ ایسے افراد کو قرآن میں النفس المطمئنة (الفجر: 27) کہا گیا ہے، اور یہی وہ نفوس ہیں جن کو آخرت کی دنیا میں خدا کا پڑوس ملے گا۔ وہ جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ راحتوں اور خوشیوں کی زندگی گزاریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page