Al-Risala · November 2008 · page 13

عمومی بگاڑ کا دور

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳

عمومی بگاڑ کا دور

روایات میں آیا ہے کہ ایک شخص، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی (متى الساعة)۔ آپ نے جواب دیا کہ ــ جب امانت ضائع کی جانے لگے تو اُس وقت تم قیامت کا انتظار کرو (فإذا ضُيِّعت الأمانة فانتظر الساعة)۔ آنے والے نے پوچھا کہ امانت ضائع کیا جانا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب عہدے نا اہل لوگوں کو دیے جانے لگیں، تو اس وقت تم قیامت کا انتظار کرو (إذا وُسّد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة) صحيح البخارى، كتاب العلم، باب مَنْ سُئل علماً۔

اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اُس آخری دور کا ذکر ہے، جب کہ دنیا میں عمومی بگاڑ آجائے گا۔ اسی عمومی بگاڑ کا یہ نتیجہ ہوگا کہ تمام عہدوں پر نااہل افراد قابض ہو جائیں گے۔ وہ اپنے منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں گے، نہ کہ اپنی ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے۔ ایسا کب ہوگا۔ ایسا اُس وقت ہوگا جب کہ سماج میں صرف نااہل افراد باقی رہ جائیں۔

اس حدیث میں دراصل اُس وقت کا ذکر ہے، جب کہ عمومی بگاڑ اپنی آخری حد پر پہنچ جائے گا، جب کہ غلط کام کرنے والا اپنے غلط کام کو اچھا سمجھے گا، جب غلط کام کرنے والوں کو کوئی روکنے والا نہ ہوگا، جب منافقانہ باتوں کا عمومی رواج ہو جائے گا، جب غلط قسم کے لوگوں کو سماج میں غلبہ حاصل ہو جائے گا، جب لوگ صرف اپنے ذاتی مفاد کو جانیں گے، نہ کہ اپنی ذمہ داریوں کو۔ موجودہ زمانے میں وہ حالات پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں جن کو قرب قیامت کی علامت کہا جا سکتا ہے ۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ نظریاتی جواز (ideological justification) کے تحت، برائیاں کی جارہی ہیں۔ بظاہر اب اس کا امکان ختم ہو چکا ہے کہ لوگ اپنے رویّے پر نظرثانی کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ جب انسان کا یہ حال ہو جائے تو موجودہ زمین پر انسان کی آبادی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد جو اگلا مرحلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو قیامت اور روز جزا (Day of Judgement) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page