Al-Risala · December 2008 · page 3

عیدِ اضحی کا پیغام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳

کا ایک سالانہ عہد ہے۔ یہی وہ نمونہ ہے جس کو سامنے رکھ کر ہر شخص کو یہ جانچنا چاہیے کہ اُس نے عیداضحیٰ کے دن کو صحیح طور پر منایا، یا صحیح طور پر نہیں منایا۔

عیداضحیٰ کے دن مسلمان اپنے قریب کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں گویا اِس دعوتی سرگرمی کی تجدید ہیں جو حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کی آباد دنیا میں انجام دیں۔ اِسی طرح آج ہر مسلمان کو اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ پھر ہر جگہ کے مسلمان لبّیک، اللھم لبّیک (اے اللہ، میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں) کہتے ہوئے مسجدوں میں جاتے ہیں اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں اور امام کا خطبہ سنتے ہیں۔ یہ اپنے اندر اِس روح کو زندہ کرنا ہے کہ میں خدا کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں، اور یہ کہ میری پوری زندگی عبادت اور اطاعت کی زندگی ہوگی۔ اِسی کے ساتھ امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اور نماز کے بعد خطبہ سننا، اِس بات کا عہد ہے کہ میں اِس دنیا میں اجتماعی زندگی گزاروں گا، نہ کہ متفرق زندگی۔ عیداضحیٰ کے دن قربانی کی جاتی ہے۔ اِس قربانی کے وقت یہ کلمات ادا کیے جاتے ہیں: اِنّ صلا تی ونسکی ومحیای ومماتی للہ ربّ العالمین (الأنعام: 161) یعنی بے شک، میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہوگا۔ قربانی کے وقت ادا کیے جانے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ قربانی کی اصل روح یا اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ قربانی دراصل ایک علامتی عہد (symbolic covenant) ہے۔ اِس علامتی عہد کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیداضحیٰ کے دن آدمی علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ اس کی زندگی پورے معنوں میں، خدا رخی زندگی (God-oriented life) ہوگی۔ وہ اپنی زندگی میں عبادتِ الٰہی کو اُس کے تمام تقاضوں کے ساتھ شامل کرے گا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں وقف کرے گا۔ وہ دنیا میں سرگرم ہوگا تو خدا کے مشن کے لیے سرگرم ہوگا۔ اِس پر موت آئے گی تو اِس حال میں آئے گی کہ اِس نے اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے مشن میں لگا رکھا تھا، وہ پورے معنوں میں خداوند عالم کا بندہ بنا ہوا تھا۔ اِس کا جینا خدا کے لیے جینا تھا، نہ کہ خود اپنے لیے جینا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page