Al-Risala · December 2008 · page 12

کتابِ تلاوت، یا کتابِ اطاعت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲

کتابِ تلاوت، یا کتابِ اطاعت

مسٹر اے اور مسٹر بی کے درمیان ایک جائیداد (property) کو لے کر نزاع ہوئی۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ جائیداد میری ہے۔ دونوں مسلمان تھے۔ مسٹر اے نے مسٹر بی سے کہا کہ اگر آپ قرآن کو ہاتھ میں لے کر کہہ دیں کہ یہ جائیداد میری ہے، تو میں اپنا دعویٰ واپس لے لوں گا اور جائیداد پر آپ کا حق تسلیم کر لوں گا۔ مسٹر بی نے کہا— اس معاملے کا قرآن سے کیا تعلق۔

مسٹر بی ایک مسلمان شخص تھے، پھر انھوں نے ایسا کیوں کہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، خدا کی کتاب کو وہی درجہ دے چکے ہیں جس کو قرآن میں کتاب مہجور (الفرقآن: 30) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن برائے تلاوت کتاب بن گیا ہے، نہ کہ برائے اطاعت کتاب۔ یہ ذہن موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے۔ مذکورہ واقعہ اسی ذہن کی ایک مثال ہے۔

بہت سے لوگ جو اسلام کے نام پر ادارے، یا تحریکیں چلا رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنا کام شروع کرنے سے پہلے، قرآن کو بار بار اس نظر سے پڑھا تھا کہ قرآن کے مطابق، میرے لیے کرنے کا کام کیا ہے۔ مگر غالباً کسی نے بھی یہ جواب نہیں دیا کہ ہاں، میں نے قرآن کو بار بار اس نظر سے پڑھا اور پھر قرآن سے مجھ کو جو روشنی ملی، اس کے مطابق، میں نے اپنا یہ کام شروع کیا۔

ایسے لوگ بہت ملیں گے جو قرآن کی تفسیر پڑھیں گے، یا عربی زبان سیکھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ وہ قرآن براہِ راست سمجھ سکیں۔ لیکن ایسا کوئی شخص مشکل سے ملے گا جو قرآن کو اپنے قول و عمل کے لیے ایک رہ نما کتاب (guide book) بنائے ہوئے ہو۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کوتاہی ہے۔ مسلمان جب تک قرآن کو اپنے لیے رہ نما کتاب نہیں بنائیں گے، اُن کا کوئی معاملہ درست ہونے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page