اسلام کیا ہے
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴
اسلام کیا ہے
اسلام کے لفظی معنی ہیں: سب مشن (submission)، یعنی سب مشن ٹو گاڈ۔ سب مشن، دراصل انسان کی طرف سے خدا کے لیے اُس فطری رسپانس کا نام ہے جو خدا کی معرفت کے بعد انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ اِسی سب مشن سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔ خدا کی معرفت کیا ہے۔ خدا کی معرفت اُس ہستی کی معرفت ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، جس نے انسان کے لیے وسیع کائنات میں زمین جیسا استثنائی گرہ بنایا، جس نے انسان کو ایک ایسی شخصیت عطا کی، جیسی شخصیت وسیع کائنات میں کسی اور کو عطا نہیں ہوئی، جس نے ہماری دنیا میں وہ انوکھا سسٹم قائم کیا جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔
اُس کی یہ دریافت یہیں تک نہیں رکتی، بلکہ وہ دریافتوں کے ایک پراسس کی صورت میں اُس کی زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ اب وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ میں آزاد نہیں ہوں، بلکہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ہوں۔ دریافت کا یہ پراسس (process) آگے بڑھتا ہے۔ وہ اُس کو بتاتا ہے کہ وہ آزاد نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کے سامنے جواب دہ (accountable) ہے۔ موت اُس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ موت کے بعد ایک اور زندگی شروع ہوتی ہے جہاں وہ خدا کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے، تا کہ خدا اس کے ابدی مستقبل کے بارے میں اپنے آخری فیصلے کا اعلان کرے۔
یہ پراسس جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ دریافت کرتا ہے کہ زندگی کا خاتمہ یا تو ابدی جنت کی صورت میں ہونے والا ہے، یا ابدی جہنم کی صورت میں۔ یہ دریافت اُس کو بے حد سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اب وہ ہر چیز کو ریڈفائن (redefine) کرتا ہے۔ پہلے اگر اُس کی سرگرمیاں خود رُخی (self-oriented) تھیں تو اب اُس کی تمام سرگرمیاں خدا رُخی (God-oriented) بن جاتی ہیں۔ اسی طرزِ حیات کا نام اسلام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues