فخر سے غرور تک
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
فخر سے غرور تک
عام طور پر لوگوں کے اندر فخر (pride) کا مزاج ہوتا ہے۔ صحت پر فخر، علم پر فخر، خاندان پر فخر، تاریخ پر فخر، وغیرہ۔ عام تصور یہ ہے کہ فخر کا احساس بہت ضروری ہے۔ اس سے آدمی کے اندر عزتِ نفس (self-respect)، خود اعتمادی اور حوصلہ جیسی مثبت صفات پیدا ہوتی ہیں۔ لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ آدمی کے پاس اگر کوئی چیز فخر کے لیے نہ ہو تو وہ احساس کم تری کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اندر لوگوں سے دب کر رہنے کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ وہ اونچی فکر کے ساتھ لوگوں کے درمیان نہ رہ سکے گا۔
مگر فخر کے جواز کی یہ توجیہات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فخر ایک اخلاقی برائی ہے۔ فخر کوئی علاحدہ صفت نہیں، فخر کے ساتھ دوسری کئی چیزیں لازمی طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ مثلاً فخر کے ساتھ خود پرستی آتی ہے، فخر کے ساتھ احساسِ برتری آتا ہے، فخر دھیرے دھیرے غرور (arrogance) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فخر دراصل اُسی برائی کا ایک خوب صورت نام ہے جس کو ابلیس نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: أنا خيرٌ منه (الأعراف: 12) یعنی میں اُس سے بہتر ہوں: I am better than he (7: 12)
فخر کسی مجرد صفت کا نام نہیں، فخر ایک تقابلی (comparative) صفت کا نام ہے۔ فخر ہمیشہ کسی کے مقابلے میں پیدا ہوتا ہے۔ فخر کرنے والے کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ احساس رہتا ہے کہ میں دوسروں سے بہتر ہوں۔
یہ احساس عین وہی چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں ابلیس کی نسبت سے کیا گیا ہے۔ فخر کرنے والا آدمی شیطان کے زیر اثر آجاتا ہے۔ ایسا انسان دھیرے دھیرے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بلا شبہہ اس دنیا میں غرور سے زیادہ بُری کوئی چیز نہیں۔ فخر اور غرور میں صرف لفظ کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues