Al-Risala · December 2008 · page 20

تمکین فی الارض کا معاملہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

تمکین فی الارض کا معاملہ

قرآن کی سورہ نمبر 22 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الَّذين إِن مکّنّاہم فى الأرضِ، أقاموا الصّلاةَ وآتوا الزّكاةَ، وأمروا بالمعروفِ، ونهوا عَنِ المنكر (الحج: 41)۔ یعنی وہ لوگ جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں، تو وہ صلاة کا اہتمام کریں گے، اور زکات ادا کریں گے، اور معروف کا حکم دیں گے، اور منکر سے روکیں گے۔

قرآن کی اس آیت میں پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ہم ان کو زمین میں غلبہ دیں تو وہ فلاں فلاں کام کریں گے۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم جہاد کر کے زمین میں سیاسی غلبہ حاصل کرو، تاکہ تم اسلامی احکام پر مبنی نظام قائم کرو قرآن کی اس آیت سے سیاسی انقلاب کا نصب العین نکالنا، واضح طور پر یک بے اصل تفسیر ہے، اس کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ احکام شریعت کے معاملے میں قرآنی اصول تكليف بقدر وسع (البقرۃ: 286) پر مبنی ہے، یعنی استطاعت کے بقدر کام کا مكلف ہونا۔ کسی موجود صورتِ حال میں مسلمان جن احکام شریعت پر بالفعل عمل کر سکتے ہوں، اُسی کو وہ عملاً انجام دیں گے۔ اس کے بعد ان کی جو ذمے داری ہے، وہ دعوت الی اللہ ہے، یعنی کامل امن پسندی اور ایک طرفہ خیر خواہی کے ساتھ وہ کام کرنا جس کو انذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ شریعت کے کچھ احکام وہ ہیں جن کا تعلق افراد سے ہے، اور کچھ احکام وہ ہیں جن کا تعلق معاشرے سے۔ ہر مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی ذات کے معاملے میں شریعت کے احکام کو پوری طرح اختیار کرے۔ تاہم جہاں تک اجتماعی احکام، یا معاشرتی احکام کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ معاشرے کی داخلی صورت حال پر موقوف ہے۔ معاشرہ اگر قبولیت (acceptance) کے لیے تیار ہو، تو اس کے اندر اجتماعی احکام نافذ ہوں گے، اور اگر معاشرہ قبولیت کے لیے تیار نہ ہو، تو اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے انتظار کیا جائے گا۔ یہ انتظار اُس وقت تک جاری رہے گا، جب تک کہ معاشرے کے اندر قبولیت احکام کا مزاج پیدا نہ ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page