جموں و کشمیر کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲
کوئی دستوری اعتراض ہے، تو اُس کو اپنا معاملہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے لے جانا چاہیے۔ کشمیری لیڈر اپنا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں لے گئے، بلکہ وہ اُس کو لے کر پرجس کوش طور پر سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ موجودہ صورتِ حال اسی کی ایک قیمت ہے جو کشمیر کے مسلمان ادا کر رہے ہیں۔
جہاں تک میں جانتا ہوں، جموں کی متنازع زمین بہت پہلے سے امر ناتھ کے یاتریوں کے لیے استعمال ہورہی تھی۔ عملاً وہ پہلے بھی امر ناتھ شرائن بورڈ کے استعمال میں تھی۔ نئی بات صرف یہ ہوئی تھی کہ اس انتظام کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے اس کو قانونی شکل دے دی گئی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر کے مسلمانوں کو اس معاملے میں اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اُنھیں دل سے راضی ہو جانا چاہیے کہ وہ زمین بدستور، امر ناتھ یاتریوں کے لیے استعمال ہوتی رہے، جیسا کہ وہ پہلے استعمال ہو رہی تھی۔ اس زمین کو زیادہ بہتر طور پر یاتریوں کے استعمال میں لانا، کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت، اس پر راضی ہو جانا چاہیے۔ اس زمین کو قانونی شکل دینے کے لیے اگر کچھ فنی یا تکنیکل رکاوٹیں ہیں، تو اُن کو دور کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دونوں فریق کو چاہیے کہ وہ باہمی طور پر پر امن گفتگو کے ذریعہ ان فنی رکاوٹوں کو دور کردیں، تا کہ اس معاملے میں ڈیڈلاک ختم ہو جائے اور مذکورہ زمین امر ناتھ یاتریوں کے لیے خوش گوار ماحول میں استعمال ہونے لگے، جیسا کہ وہ ماضی قدیم سے استعمال ہو رہی تھی۔
دونوں فریقوں کو اس معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ ملک اور ملک کے دستور کو اعلیٰ مقام دیں۔ وہ اپنی کوشش کو پر امن دائرے تک محدود رکھیں، وہ کسی حال میں تشدد یا قانون شکنی کا طریقہ نہ اختیار کریں، وہ کوئی بھی ایسا اقدام نہ کریں جس کے نتیجے میں کشمیری باشندوں کے حقوق پامال ہونے لگیں اور ملک کا وقار مجروح ہو (9 اگست 2008)۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues