معرفت دین، احکام دین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۹
گھاس کی مانند ہوتی ہیں۔ اِن میں نہ تو معرفت کی خوشبو ہوتی ہے اور نہ حکمت کی روشنی۔ اِن میں نہ تو محبتِ الہی کی غذا ہوتی ہے اور نہ خوفِ خدا کی چنگاری۔ ان تقریروں اور تحریروں میں سطحی لوگوں کے لیے ادبی چاشنی یا قومی فخر جیسی منفی خوراک تو ضرور ہوتی ہے، لیکن اُن میں نہ وضوح (clarity) ہوتا ہے اور نہ دین کی گہری بصیرت۔
یہ تقریریں اور تحریریں صرف شبد جنجال کا نمونہ ہوتی ہیں، لیکن اُن سے روحِ انسانی میں نہ اہتزاز (thrill) پیدا ہوتا اور نہ آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب اُمڈتا ہے۔ اُن کو پڑھ کر اور سن کر انسان نہ جنت کی طرف دوڑنے والا بنتا ہے اور نہ جہنم سے بھاگنے والا۔ یہ تقریریں اور تحریریں انسان کے لیے خشک صحرا میں سفر کی مانند ہوتی ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اس معاملے کا تجربہ میں نے مختلف انداز سے کیا ہے۔ مثلاً ایک شخص مجھ سے ملے گا اور کسی مقرر کی تقریر کا ذکر کرے گا۔ وہ نہایت پر جوش طور پر ان کی تقریروں کی تعریف کرے گا۔ لیکن جب میں اُس سے پوچھوں گا کہ ان کی تقرير ميں آپ کو کیا نئی اور خاص بات ملی تو وہ کچھ نہ بتا پائے گا۔ یہ تجربہ میں نے بار بار کیا ہے۔ آج کل کے تقریباً تمام مشہور مقررین کا حال یہ ہے کہ ان کی تقریروں کو سن کر لوگ خوب خوش ہوتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں، لیکن وہ ان تقریروں سے کچھ اپنے لیے لے کر نہیں لوٹتے۔ ان تقریروں میں الفاظ کی بھر مار تو ضرور ہوتی ہے، لیکن اُن میں سننے والے کے لیے کچھ ٹیک اوے (take away) نہیں ہوتا۔
یہی معاملہ کتابوں کا ہے۔ کسی دینی کتاب کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے آدمی کو سچائی کی دریافت ہو، وہ خدا کو پہچانے، وہ اس کے ذریعے سے کوئی روحانی خوراک حاصل کرے۔ مگر یہاں بھی یہی حال ہے کہ لوگ مقالات اور کتابوں کی تعریفیں کرتے ہیں، مگر جب اُن سے پوچھا جائے کہ اس کتاب میں تم کو خود اپنے لیے کیا ملا، اس سے تم کو خود اپنے ذہنی ارتقا کے لیے کیا سامان حاصل ہوا۔ جب اُن سے ایسا سوال کیا جائے تو اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں کہہ پاتے۔ اُن کے پاس کہنے کے لیے کوئی ایسی نئی بات نہیں ہوتی، جس کو انھوں نے اس کتاب کے مطالعے کے ذریعے پایا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues