جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳
جہاد اسلامی تاریخ میں
جہاد کے لفظی معنی کوشش یا جہد کے ہیں۔ اِس سے مراد اصلا پر امن کوشش ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر پچیس میں ارشاد ہوا ہے، اُن سے جہاد کرو، قرآن کے ذریعے، بڑا جہاد (الفرقان: 52) قرآن کی اس آیت میں جہاد یا جہادِ کبیر سے مراد واضح طورپر پُرامن دعوتی جد و جہد ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے: المجاهد من جاهد نفسه فی طاعة الله (مسند احمد، جلد 6، صفحہ (22) یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف خدا کی اطاعت کے لیے جہاد کرے۔ اس حدیث رسول میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے، وہ بھی واضح طور پر ایک پر امن عمل ہے، اُس کا جنگ اور قتال سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، توسیعی معنوں میں کبھی جہاد کا لفظ قتال کے لیے بھی بولا جاتا ہے، یعنی حربی جہاد کے لیے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کا لفظ عام طور پر مسلح جہاد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مشغول ہیں اور اُن کو وہ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں، مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ تاہم، زیر نظر مضمون میں ہم عمومی استعمال کے لحاظ سے جہاد کو مسلح جہاد کے معنی میں لیتے ہوئے اس موضوع کا ایک تاریخی جائزہ لیں گے۔ 1 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ پر مشرک لوگوں کا اقتدار قائم تھا۔ اُس وقت مکہ میں آپ کی حیثیت داعی کی تھی اور بقیہ لوگوں کی حیثیت مدعو کی ۔ مکہ کے مشرک سردار آپ کے نظریہ توحید کے دشمن بن گئے اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔ اسی حال میں تیرہ سال گزر گیے ۔ اس دوران مکہ اور اطرافِ مکہ اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھی بن گیے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مکی دور کے آخر میں آپ کے ساتھیوں نے آپ سے اصرار کیا کہ ہم مشرکین مکہ کے خلاف لڑیں گے ۔ اُس وقت آپ کے ساتھیوں کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ غزوہ بدر کے موقع پر شریک ہونے والے صحابہ کی۔ لیکن اُس وقت آپ نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues