Al-Risala · March 2009 · page 36

تاریخ عالم پر ایک تبصرہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶

تاریخ عالم پر ایک تبصرہ

سیکولر نظریے کے مطابق، دنیا کی تاریخ چار بڑے ادوار پر مشتمل ہے __ بگ بینگ کا واقعہ، مادی ترقیات، تہذیب کی ترقی، خاتمہ تاریخ:

Big Bang, material development,

سیکولر نظریے کے مطابق، تقریباً پندرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد لمبے ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ مادی دنیا بنی۔ انسان کے ظہور کے بعد تہذیبی ترقی شروع ہوئی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا ناقابل حل مسئلہ سامنے آ گیا۔ اور اب تمام سائنس داں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری دنیا میں جو طبیعی تغیرات ہو رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ 2050 سے پہلے ہی اس دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ موجودہ دنیا کی یہ سیکولر تصویر نا قابل فہم حد تک عجیب ہے۔ سیکولر نظریہ بتاتا ہے کہ پچھلے پندرہ بلین سال سے ہماری دنیا میں مسلسل طور پر بامعنی ارتقا جاری رہا ہے، یہاں تک کہ موجودہ کائنات بنی، جو انتہائی حد تک بامعنی کائنات تھی۔ اب گلوبل وارمنگ کے ذریعے اگر دنیا کسی مزید مستقبل کے بغیر آخری طور پر فنا ہو جائے تو یہ ایک بامعنی آغاز کا ایک بے معنی انجام ہوگا، جو بلاشبہ عقلی طور پر نا قابل فہم ہے۔ مثال کے طور پر نظریہ ارتقا کہتا ہے کہ انواع حیات کے درمیان بقائے اصلح (survival of the fittest) کا عمل جاری رہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اسی ارتقائی عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان جیسی ایک اعلیٰ نوع وجود میں آئی۔ اب یہ سراسر ایک غیر عقلی (irrational) بات ہے کہ بقائے اصلح کا عمل اپنے آخر میں صرف ایک معکوس انجام پر ختم ہو جائے:

It is unthinkable that the survival of the fittest خود فطرت کا قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ کائناتی پر اس اپنے آخر میں ایک بہتر دنیا کو وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page