Al-Risala · March 2009 · page 39

اخراجات کو گھٹائیے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹

اخراجات کو گھٹائیے

ایک صاحب جو بزنس کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ موجودہ آمدنی (income) سے میرا کام نہیں چلتا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ بینک سے قرض (loan) لے کر اپنے کاروبار کو بڑھاؤں۔ اس معاملے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ سے اتفاق نہیں۔ اس وقت آپ اپنی آمدنی بڑھانے کے ذہن سے سوچ رہے ہیں۔ اس کے بجائے، آپ اپنے خرچ کو گھٹانے کی بات سوچیے۔ کیوں کہ خرچ کو گھٹانا بھی آمدنی کو بڑھانا ہے۔ آپ یہ کیجیے کہ آپ اپنے گھر کے اخراجات کو گھٹائیے۔ اس طرح، آپ اپنی موجودہ آمدنی ہی میں اپنے گھر کو چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایک طرف آپ یہ کریں اور دوسری طرف، آپ زیادہ سے زیادہ محنت کر کے اپنے کاروبار کو بڑھائیں۔ جلد ہی آپ محسوس کریں گے کہ جو مقصد آپ بینک کے قرض کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ بینک کے قرض کے بغیر حاصل ہو گیا ہے۔ اسی طریقے کا نام منصوبہ بند انداز میں کام کرنا ہے۔ منصوبہ بند انداز میں کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک طرف، اپنے موجود ذرائع کو دیکھے۔ اور جب بھی وہ کوئی نیا اقدام کرے تو وہ نتیجے کو دیکھ کر کرے، نہ کہ صرف اپنے شوق کو دیکھ کر۔ منصوبہ بندی (planning) دراصل ذرائع اور امکان کے درمیان تناسب تلاش کرنے کا نام ہے، نہ کہ ذرائع کا لحاظ کیے بغیر محض شوق کے تحت چھلانگ لگانے کا نام۔

اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا لحاظ کیے بغیر اپنے خرچ کو بڑھاتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر وہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ کبھی قرض لیتے ہیں، کبھی کوئی بے اصولی کا کام کرتے ہیں، کبھی غلط طریقے سے کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں تباہ کن ہیں۔ اگر آپ سادہ زندگی اختیار کریں، اپنے اخراجات کو محدود رکھیں، ضرورت کے مطابق خرچ کریں، نہ کہ شوق اور نمائش کے لیے خرچ کرنے لگیں— جو شخص ان باتوں کا لحاظ رکھے گا، وہ کبھی غیر ضروری پریشانی کا شکار نہیں ہوگا۔ اُس کے مسائل فطری مسائل ہوں گے، نہ کہ غیر فطری مسائل۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page