اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۲
اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور
قرآن کی سورہ نمبر 26 میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق وہ قرار پائے گا جو قلبِ سلیم کے ساتھ وہاں پہنچے: إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (الشعراء: 89)۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ: إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بأعمال كثيرة (مگر وہ شخص جو بہت زیادہ اعمال لے کر آئے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت کی قیمت حقیقتاً کمیاتی عمل نہیں ہے، بلکہ کیفیاتی عمل ہے، یعنی وہ عمل جس کا تعلق قلبِ سلیم سے ہو۔ اس آیت میں قلب سے مراد معروف معنوں میں دل نہیں ہے، بلکہ شعور ہے۔ سلیم یا سلامت کا مطلب ہوتا ہے—بری ہونا۔ ضحاک بن مزاحم تابعی (وفات: 723ء) نے قلبِ سلیم کی تفسیر قلبِ خالص سے کی ہے (تفسیر القرطبی)۔ قلبِ سلیم سے مراد ہے— آلائش سے پاک قلب (pure heart)، یعنی جو شخص دنیا میں اپنی فطرت کو آلائش سے بچائے اور صحیح فطرت کے ساتھ آخرت میں پہنچے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں ڈی کنڈیشنڈ روح (de-conditioned soul) بھی کہہ سکتے ہیں۔ قلب کا لفظ یہاں اپنے لٹریری معنی میں ہے۔ ادبی استعمالات میں قلب کا لفظ مرکزِ شعور کے معنی میں رائج ہو گیا ہے۔ اور قرآن انسانی زبان میں نازل ہوا ہے، اسی مفہوم کے اعتبار سے قرآن میں بھی اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ حقیقی معنویت کے اعتبار سے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اپنے شعور کی اصلاح کرے، جو اپنی فطرت کو بعد کی آلائشوں سے پاک کرے، جو ماحول کی کنڈیشننگ کو توڑ کر اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ (de-conditioned mind) بنائے— ایسے ہی انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوگی، ایسا ہی انسان صراطِ مستقیم پر چل سکے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے اُس کی فطرت گرد آلود ہوتی رہتی ہے۔ ان خارجی اثرات سے پاک کر کے فطرت کو اس کی اصل حالت پر قائم کرنے کا نام محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہی بے لاگ محاسبہ اس بات کا ضامن ہے کہ آدمی صحیح فطرت یا قلبِ سلیم کا حامل ہو۔ اور جو لوگ ایسا کر سکیں، وہی وہ لوگ ہیں جو قلبِ سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچیں گے اور آخرت میں جنت کی ابدی دنیا میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues