Al-Risala · April 2009 · page 4

عجلت پسندی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۴

عجلت پسندی

قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ارشاد ہوا ہے : خُلق الإنسان من عجل (الأنبياء : 37) یعنی انسان پیدائشی طور پر عجلت پسند ہے۔ ایک حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ : التّأنّي من اللـه، والعجلة من الشيطان (الترمذی، کتاب البر و الصلة) یعنی بُردباری اللہ کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی طرف سے۔

انسانی فکر اور انسانی عمل دونوں کے لیے دو طریقے ہوتے ہیں— ایک ہے عجلت کا انداز ، اور دوسرا ہے بردباری کا انداز :

To proceed hurriedly, To proceed unhurriedly

اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک صفت وہ رکھی گئی ہے جس کو حساسیت (sensitivity) کہا جاتا ہے۔ یہ حساسیت ایک استثنائی نوعیت کی قیمتی صفت ہے۔ لیکن ہر دوسری صفت کی طرح، اس صفت کا بھی پلس پوائنٹ (plus point) اور مائنس پوائنٹ (minus point) ہے۔ اس صفت کا پلس پوائنٹ مثال کے طور پر حیا ہے۔ اسی طرح، عجلت اس صفت کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ یہ دراصل حساسیت ہے جس کی وجہ سے آدمی عجلت پسند بن جاتا ہے۔

حساسیت، خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر حساسیت نہ ہو تو آدمی حیوان کے مانند ہو جائے گا۔ برُائی کو برُائی سمجھنے کا مزاج اس کے اندر سے ختم ہو جائے گا۔ عجلت کا مزاج اِسی حساسیت کا ایک منفی نتیجہ ہے۔ آدمی کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے اور فوری طور پر ایک رائے بنا لیتا ہے، یا فوری طور پر وہ کوئی اقدام کر دیتا ہے۔ فکر یا عمل میں اس قسم کا عجلانہ انداز اِسی حساسیت کا ایک غیر مطلوب اظہار ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عجلت پسندی کے مزاج کو عقل کے تابع بنائے۔ وہ ایسا کرے کہ بولنے اور کرنے سے پہلے سوچے ۔ وہ سوچنے کے بعد کوئی بات کہے اور سوچنے کے بعد کوئی عمل کرے ۔ عجلت پسندی کو قابو میں رکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے— عجلت پسندی کا مزاج تو ختم نہیں ہو سکتا، البتہ عقل کے تابع رکھ کر اس کو مفید بنایا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page