Al-Risala · April 2009 · page 7

سب سے بڑا فتنہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۷

سب سے بڑا فتنہ

صحیح مسلم اور مسند احمد میں ایک حدیث آئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: "عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنّ إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه يفتنون الناس، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة. يجيء أحدهم فيقول: فعلت كذا وكذا. فيقول: ماصنعت شيئا. قال: ثم يجيئ أحدهم فيقول: ما تركته حتى فرّقت بينه وبين امرأته. قال فيدنيه منه، ويقول: نعم، أنتَ. قال الأعمش: أراه قال "فيلتزمه“، (رواه مسلم بحواله مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 71)۔

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابلیس اپنا تخت پانی (سمندر) کے اوپر بچھاتا ہے، پھر وہ دستوں کی شکل میں اپنے ساتھیوں کو بھیجتا ہے، تا کہ وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالیں۔ ابلیس کے نزدیک درجے کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جس نے لوگوں کو زیادہ بڑے فتنے میں ڈالا ہو۔ ہر ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا۔ ابلیس کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر اُن میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس پہنچا اور میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔ بس ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ ہاں تم نے کام کیا۔ اعمش نے کہا کہ ابلیس اس کو اپنے سینے سے چمٹالیتا ہے۔ اس حدیث میں ایک اہم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ سماجی زندگی کا یونٹ گھر ہوتا ہے۔ اور گھر اس طرح بنتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت شوہر اور بیوی کی حیثیت سے ایک گھر میں رہنا شروع کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق پڑ جائے تو گویا کہ سماجی عمارت کی ایک اینٹ کم زور پڑ گئی۔ قدیم زمانے میں یہ بُرائی صرف ایک محدود برائی تھی ، مگر جدید تہذیب نے اُس کو ایک عالمی برائی کی حیثیت دے دی ہے۔ آج اجڑے ہوئے گھر (broken homes) کا ظاہرہہ ایک عالمی ظاہر بن چکا ہے جس نے سماجی زندگی کو جنگل کی زندگی بنا دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page