امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹
غیره: حوله و بدله کأنه جعله غیر ما کان (40/5) اس کی تغیر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ گویا کہ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفهانی (وفات: 1108) نے اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن“ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی ہے: يقال غيرت داری إذا بنيتها بناء غير الذي كان۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغیر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحه 368)۔
موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ یہ ”مقدس تشدد“ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پارہا ہے۔ اس فعل میں تقریباً تمام امت شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ براہ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہ راست طور پر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییرِ منکر کا عمل ہرگز نہیں۔ تغییرِ منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورتِ حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورتِ حال قائم کرے ۔ اس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ یقینی طور پر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
کسی غیر مطلوب صورتِ حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اس کے خلاف کریں، وہ بلاشبہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues