Al-Risala · April 2009 · page 35

معذوری کے باوجود

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

معذوری کے باوجود

جو لوگ جسمانی اعتبار سے معذور ہو جاتے ہیں ، اُن کو پہلے صرف معذور (disabled) کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد ، اس قسم کے لوگوں کے لیے ایک نیا لفظ استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ تھا— فزیکلی چیلینجڈ(physically (physically challenged) یعنی وہ شخص جو جسمانی معذوری کی بنا پر چیلنج سے دوچار ہو۔ اب یہ لفظ بھی متروک ہورہا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرنٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جانے لگا ہے، یعنی وہ شخص جو بظاہر معذوری کے باوجود کسی دوسرے پہلو سے لیاقت کا حامل ہو۔ اس تبدیلی کا سبب یہ ہے کہ تجربے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کسی جسمانی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں، وہ پورے معنوں میں معذور نہیں ہوجاتے ، بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اعتبار سے معذور ہونے کے بعد اُن کے اندر ایک اور اعتبار سے لیاقت (ability) پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیاقت کو استعمال کرکے، وہ سماج کا مفید حصہ بن سکتے ہیں۔

امریکا میں معذور افراد کے بارے میں ایک ریسرچ ہوئی ہے۔ یہ ریسرچ امریکا کے ایک جرنل (BMC Neuroscience) میں چھپی ہے۔ اُس کا خلاصہ ٹائمس آف انڈیا (20 اگست، 2008) میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے— انسان آواز کو دیکھ سکتا ہے، اور روشنی کوسن سکتا ہے: Humans can see sound, hear light. اس ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص اندھا ہوجائے، تو اس کے سننے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ کوئی شخص بہرا ہوجائے، تو اس کے دیکھنے کی طاقت زیادہ ہوجاتی ہے اور اگر کوئی شخص اندھا اور بہرا دونوں ہوجائے، تو اُس کی چھونے کی طاقت (قوت لامسہ) میں اضافہ ہو جاتا ہے: Sensory cell can process an alternative sensation. Where eyesight is poor, the ears take up the slack and stimulate the visual system. This may explain how blind people develop such advanced hearing skills and, similarly, why the deaf often possess superior sight. (p. 37)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page