رکاوٹ کے بغیر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
رکاوٹ کے بغیر
26 اکتوبر 2002 کو نئی دہلی میں مسٹر محمد یسین (بھائی جی) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بزنس میں آپ میرے گرو ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ وہ گولڈ اور سلور آرٹیکل کے ایکسپو رٹر ہیں۔ 20 سال پہلے وہ صرف ایک ”مزدور“ تھے ۔ پھر انھوں نے گولڈ اور سلور کے آرٹیکل بنانے کا ابتدائی کام شروع کیا۔ مگر وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس لائن میں اصل ایکسپو رٹر ایک ہندو تھے۔ وہ یہ کرتے تھے کہ ہمارے سامان میں کوئی نقص (defect) ہو تو وہ سامان کو رجکٹ (reject) کر دیتے تھے، جب کہ وہ ہندو کے بنائے ہوئے سامان کو نقص کے باوجود قبول کر لیتے تھے۔
اسی زمانہ میں میں نے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کو بھی اسی قسم کے تجارتی تعصب کا سامنا تھا۔ جاپان نے اس کا مقابلہ اس طرح کیا کہ اپنی فیکٹریوں میں زیروڈ فیکٹ (zero defect) کا اصول رائج کر دیا، یعنی ایسے سامان بنانا جو نقص (defect) سے صد فی صد پاک ہوں۔ اس معیار کو حاصل کرنے کے بعد دنیا کے لیے ناممکن ہو گیا کہ وہ جاپان کو نظر انداز کرے۔ میں نے اس بات کو پکڑ لیا اور محنت کر کے اپنے سامانٹوں کو زیروڈ فیکٹ کے اصول پر تیار کرنے لگا۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے کامیابی ہوئی اور اب یہ حال ہے کہ 20 سال پہلے کا مزدور آج ایک بڑا ایکسپو رٹر بنا ہوا ہے۔
موجودہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ جب بھی کسی آدمی کے ساتھ اس قسم کی کوئی نا موافق صورتِ حال پیش آئے تو وہ اس کو شکایت اور تعصب کے طور پر نہ لے بلکہ وہ یہ سوچے کہ اس کا مؤثر مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں جس طرح نا موافق حالات ہیں، اسی طرح یہاں موافق حالات بھی بہت زیادہ ہیں۔ جو آدمی بھی کھلے ذہن کے تحت سوچے گا، وہ ضرور نا موافق پہلو کے اندر موافق پہلو کو تلاش کر لے گا۔ اور اس طرح اس کے لیے ممکن ہو جائے گا کہ اس کی زندگی کا سفر کسی رکاوٹ سے دوچار نہ ہو، اس کا سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues