حجراسود
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹
حجراسود
ایک ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے کعبہ میں بھی وہی سب کچھ ہوتا ہے جو ہمارے یہاں مندروں میں ہوتا ہے۔ مندر میں بت ہوتا ہے، کعبہ میں بھی ایک بت ہے جس کو آپ لوگ حجر اسود کہتے ہیں۔ میں نے ہندو بھائی کی بات ٹھنڈے طریقے سے سنی۔ میں نے ان کے اعتراض کا فوراً جواب نہیں دیا، بلکہ پہلے خود انھیں سے اس کے متعلق کچھ سوالات کیے۔ میں نے کہا کہ آئیے سب سے پہلے یہ طے کر لیں کہ بت کیا ہے اور بت پرستی کس کو کہتے ہیں۔ ان سے گفتگو کے بعد خود ان کے جوابات کی روشنی میں بت کی جو تعریف مقرر ہوئی، وہ یہ تھی: بت وہ ہے جس کو مقدس سمجھ کر اس کی پرستش کی جائے۔
بت وہ ہے جس کو عالم اسباب پر مؤثر سمجھ کر اس سے مرادیں مانگی جائیں۔
ان الفاظ کو کاغذ پر لکھ لینے کے بعد میں نے انھیں دکھایا۔ جب انھوں نے اس تعریف کی تصدیق کردی تو میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ نے کبھی کسی حاجی سے یہ پوچھا ہے کہ حجر اسود کو تم کیا سمجھتے ہو اور وہاں جا کر تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کوئی بھی مسلمان حجر اسود کو ان دونوں حیثیتوں میں سے کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک کبھی کسی مسلمان نے نہ اس طرح حجر اسود کی پوجا کی ہے جس طرح مندروں میں بت کی پوجا کی جاتی ہے اور نہ کبھی کسی مسلمان نے حجر اسود سے اس طرح مراد مانگی ہے جس طرح مندر میں بت سے مراد مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد میں نے بتایا کہ حجر اسود کی حیثیت صرف ایک نشان (symbol) کی ہے۔ حج یا عمرہ میں مسلمان کعبہ کے گرد سات بار طواف کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہے کہ طواف کے لیے کوئی نقطۂ آغاز (starting point) مقرر کیا جائے۔ حجر اسود یہی اسٹارٹنگ پوائنٹ ہے۔ ہر طواف حجر اسود سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues