Al-Risala · May 2009 · page 47

پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۷

ذاتی فائدہ حاصل نہ ہو وہ صرف ایک ذہنی تفریح ہے، اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ بزنس کریں تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بزنس کا معیار آمدنی (income) ہے۔ جس بزنس کا یہ حال ہو کہ ساری محنت کے باوجود آپ کو اس سے کوئی آمدنی نہ ملے، ایسا بزنس صرف وقت اور مال کا ضیاع ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی بزنس۔ میں نے کہا کہ ایسے بزنس کو ہر آدمی چھوڑ دے گا۔ یہی معاملہ آپ کو مذکورہ قسم کے پروگرام کے بارے میں کرنا چاہیے۔ میں نے کہا آپ جیسے لوگ بزنس کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اس لئے بزنس کے معاملے کو خوب سمجھتے لیتے ہیں۔ لیکن اسلام کے معاملے میں آپ سنجیدہ نہیں، اس لئے اسلام کی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اسلام کے نام سے آپ صرف اپنے قومی فخر کو جانتے ہیں، نہ کہ خود اسلام کو۔ ڈاکٹر احمد صفی انصاری کے گھر سے روانہ ہو کر ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ واپسی میں ہماری گاڑی بارہ گھنٹے لیٹ تھی ۔ یہ تاخیر کہر (fog) کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو گاڑی آچکی تھی۔ ہم لوگ گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اعظم گڑھ اسٹیشن سے ہم دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو رات کے تقریبا بارہ بج چکے تھے۔ یہ رات کا وقت تھا، اس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ اگلے دن 2 جنوری 2009 کو رات ایک بجے ہم لوگ دہلی پہنچے۔ ہم لوگ اسٹیشن سے باہر آئے تو یہاں ہمارے ساتھی کار کے ساتھ موجود تھے۔ ہم اُن کے ساتھ روانہ ہو کر دوبارہ نظام الدین ویسٹ پہنچ گئے۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page