Al-Risala · June 2009 · page 13

تعمیر دنیا، تیاری آخرت

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

تعمیر دنیا، تیاری آخرت

موجودہ زمانے میں لوگوں کو دیکھئے تو ہر عورت اور ہر مرد مشغول (busy) نظر آئیں گے۔ لوگوں کی یہ مشغولیت اتنی زیادہ ہے کہ کسی کے پاس کوئی اور بات سننے کے لیے فرصت نہیں۔ لوگوں کے پاس اپنے وقت اور اپنے پیسے کا ایک ہی استعمال ہے، یہ کہ وہ اپنے وقت اور اپنے پیسے کو اپنی مطلوب منزل تک پہنچنے کے لیے پوری طرح لگا دیں۔

لوگوں کی یہ مشغولیت کس کام کے لیے ہے، وہ کام صرف ایک ہے۔ اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانا، اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر کرنا۔ لیکن موت اس نظریہ حیات کی تردید ہے۔ ہر آدمی کا آخری انجام یہ ہے کہ وہ بہت جلد مر جاتا ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ اب وہ تنہا ایک ایسے عالم کی طرف چلا جاتا ہے، جہاں کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ پیدا ہونے کے بعد جب وہ موجودہ دنیا میں آتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح دنیوی اصطلاحوں میں سوچنے لگتے ہیں، جس طرح اُن کے آس پاس کے لوگ سوچ رہے ہیں۔ وہ بھی اُنھیں مادی کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں جن میں اُن سے پہلے کے لوگ مشغول چلے آ رہے تھے۔ اِس صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ مادی سوچ، تاریخی تسلسل کا حصہ بن گئی ہے۔ مادی سوچ اس طرح کلچرل روایت میں شامل ہوگئی ہے کہ اس سے الگ ہو کر سوچنا بظاہر کسی عورت یا مرد کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اس تاریخی تسلسل سے باہر آ کر سوچے ۔ وہ روایتی کلچر سے الگ ہو کر حقیقت کی بنیاد پر اپنی رائے بنائے ۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ فورا یہ دریافت کر لیں گے کہ اصل معاملہ تعمیر دنیا کا نہیں، بلکہ اصل معاملہ تیاری آخرت کا معاملہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دور حیات میں، موت کے بعد کے مرحلہ حیات کی تیاری کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد آنے والے ابدی دور حیات میں کامیاب انسان قرار پا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page