وقت ختم ہوگیا
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸
وقت ختم ہوگیا
اسکول میں طالب علموں کا امتحان ہورہا تھا۔ طلبہ میز پر جھکے ہوئے اپنا اپنا سوال حل کر رہے تھے، یہاں تک کہ امتحان کا مقرر وقت پورا ہوگیا۔ فورا ہی امتحان حال میں موجود دَروں کی طرف سے اعلان کیا گیا۔ لکھنا بند کرو، وقت ختم ہوگیا:
Stop writing, time is over.
یہ معاملہ جو امتحان حال میں پیش آیا، وہی وسیع تر زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد ایک بڑے امتحان حال میں ہیں۔ یہاں ہر ایک اپنا اپنا امتحان دے رہا ہے۔ ہر ایک کی ایک مدت مقرر ہے۔ یہ مدت پوری ہوتے ہی خدا کا فرشتہ آتا ہے اور خاموش زبان میں اعلان کرتا ہے کہ تمھارے عمل کا وقت ختم ہوگیا۔ اب تم کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے خالق و مالک کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا ہے۔ تعلیمی امتحان کا معاملہ جو ہر طالب علم کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ ایک مثال ہے جس سے ہر عورت اور ہر مرد وسیع تر معنوں میں زندگی کے امتحان کے معاملے کو سمجھ سکتے ہیں۔ زندگی حالت امتحان کا نام ہے، اور موت اس کا نام ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کا انجام پانے کے لیے اگلی دنیا میں بھیج دیا جائے۔ موت سے قبل کی زندگی دراصل امتحان کا دور ہے اور موت کے بعد کی زندگی امتحان کا رزلٹ نکلنے کا دور۔ جو شخص امتحانی دور حیات میں ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزارے گا، وہی اگلے دورِ حیات میں بہتر انجام کو پائے گا۔ جو لوگ اس معاملے میں غافل ثابت ہوں، اُن کو بعد کے دورِ حیات میں حسرت اور مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔
امتحان ہال کے اندر ایک طالب علم جس نفسیات کے ساتھ رہتا ہے، اُسی نفسیات کے ساتھ ہم کو اپنی پوری زندگی میں رہنا ہے۔ ہر ایک کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے دیے ہوئے پرچے کو درست طور پر حل کرے، تاکہ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد جب اُس کا رزلٹ سامنے آئے تو وہ اُس کے لیے کامیابی کی خوش خبری ہو، نہ کہ ناکامی کا اعلان۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues