Al-Risala · June 2009 · page 39

نظریہ ارتقاء اور مذہب

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹

کامیابی کا راز

ایک شخص جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر میں اپنے ماں باپ اور بھائی بہن کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنے گھر کے اندر اس کو عزت ملتی ہے۔ گھر کے لوگ اس کی ہر ضرورت کو پورا کرتے رہتے ہیں۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے درمیان ہے جو یک طرفہ طور پر اس کے خیر خواہ ہیں۔ گھر کے اندر اس کو ہر چیز اپنی دکھائی دیتی ہے، بغیر اس کے کہ اُس نے ان چیزوں کی قیمت ادا کی ہو ۔ لیکن یہ تجربہ کسی انسان کے لیے صرف ایک وقتی تجربہ ہوتا ہے۔ جب وہ بڑا ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور باہر کی دنیا میں آتا ہے تو یہ باہر کی دنیا اس کے لیے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اُس کا گھر اس کو اپنی دنیا نظر آتی تھی، لیکن باہر کا ماحول اس کو غیر کی دنیا نظر آنے لگتی ہے۔ یہ دو طرفہ تجربہ ہر انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد پر لازم ہے کہ وہ زندگی کی اس حقیقت کو سمجھے، تا کہ وہ اپنے آپ کو ناکامی سے بچا سکے۔

اصل یہ ہے کہ گھر کی دنیا خون کے رشتوں کی دنیا ہے۔ گھر کی دنیا میں آدمی کو خونی رشتہ (blood relationship) کی بنیاد پر جگہ ملتی ہے۔ لیکن باہر کی دنیا میں آتے ہی یہ تعلق پوری طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے اندر وہ اہلیت (ability) پیدا کرے جو اس کو باہر کی دنیا میں کام آنے والی ہو۔

گھر سے باہر کی دنیا میں کسی عورت یا مرد کو جس بنیاد پر عزت کا مقام ملتا ہے، وہ صرف دو ہے۔ آدمی یا تو دوسروں کے لیے نفع بخش (giver person) بن جائے، یا وہ اس طرح رہے کہ وہ دوسروں کے لیے بے مسئلہ انسان (no-problem person) بن گیا ہو۔ وہ یا تو دوسروں کے لیے ایک دینے والا انسان ہو، یا وہ دوسروں کے لیے مکمل طور پر ایک بے ضرر انسان ہو۔ یہی دو چیزیں دنیا میں کامیابی کا راز ہیں، اس کے سوا کوئی تیسری چیز نہیں جو دنیا میں آدمی کو با عزت زندگی دینے والی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page