حقیقت کا اعتراف
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۲
حقیقت کا اعتراف
قرآن کی سورہ نمبر 43 کی ایک آیت میں ایک خدائی قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’ کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی میں اُن کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے، اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں‘‘ (الزّخرف : 32)۔
دنیا میں کسی شخص کو جو کچھ ملتا ہے، وہ اس کو انعام کے طور پر نہیں ملتا، بلکہ وہ اس کو امتحان کے طور پر ملتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت، اقتدار، وغیرہ میں برابری (equality) کا اصول نہیں ہے، بلکہ فرق (difference) کا اصول ہے۔ یہ فرق امتحانی مصلحت کی بنا پر ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان اگر دنیوی چیزوں میں برابری ہو، تو لوگوں کے درمیان امتحان کی حالت قائم نہ ہو سکے گی، جب کہ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، امتحان کی حالت لازمی طور پر ضروری ہے۔ خدا کے قائم کردہ اس فرق کی بنا پر، نہ کہ سازش (conspiracy) یا استحصال (exploitation) کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیوی معاملات میں کوئی اوپر ہوتا ہے اور کوئی نیچے ۔
اس فرق کو ماننے کا مطلب حقیقت کا اعتراف ہے۔ حقیقت کا اعتراف کرنے سے آدمی کے اندر مثبت طرزِ فکر پیدا ہوتا ہے، اس کے اندر مثبت اخلاقیات کی پرورش ہوتی ہے، اس کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ جو لوگ حقیقت کا اعتراف نہ کریں، وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جائیں گے۔ اس دنیا میں تمام مثبت فوائد حقیقت کا اعتراف کرنے والے کو ملتے ہیں۔ اس لیے آدمی مجبور ہوتا ہے کہ وہ دل سے حقیقت کو نہ مانتے ہوئے بھی عملی طور پر اُس سے ایڈجسٹ کرلے، اسی کا مذہبی نام منافقت ہے۔ حقیقت کا اعتراف نہ کرنا ہمیشہ نفاق کی قیمت پر ہوتا ہے، اور بلاشبہ نفاق سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ ہم خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں، نہ کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں۔ خدا کی دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق رہنے کی کوشش کرنا ہی تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues