پہلی زندگی ، دوسری زندگی
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲
پہلی زندگی ، دوسری زندگی
انسان جب پیدا ہو کر موجودہ دنیا میں آتا ہے تو یہ اس کی پہلی زندگی ہوتی ہے ۔ یہاں اُس کی طلب کے بغیر اس کے لیے سب کچھ موجود ہوتا ہے ۔ یہاں وہ پاتا ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کو ایک پر محبت خاندان مل گیا ۔ اُس کو ایک ایسی دنیا مل گئی جو انتہائی حد تک اس کے لیے ایک موافق دنیا تھی ۔ اس کو ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) حاصل ہو گیا جس کے بغیر اس کے لیے زندگی ممکن نہ ہوتی ۔ یہ ساری چیزیں اُس کو یک طرفہ طور پر حاصل ہوتی ہیں ۔ خواہ وہ اُس کو شعوری طور پر محسوس کرے ، یا وہ اس کو شعوری طور پر محسوس نہ کرے ۔ اس طرح ایک محدود مدت گزارنے کے بعد آدمی مر جاتا ہے ۔ موت کا یہ واقعہ اس کے لیے ایک نئے سفر کا معاملہ ہوتا ہے ۔ موت کے بعد آدمی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے ، جہاں دوبارہ وہ اکیلا ہوتا ہے ۔ اب بھی وہ پہلے کی طرح ایک زندہ اور حساس وجود ہوتا ہے ، لیکن پچھلی دنیا میں ملی ہوئی تمام چیزیں اُس سے چھوٹ جاتی ہیں ۔ اب وہ پھر اس کا محتاج ہوتا ہے کہ دوبارہ اس کو تمام چیزیں از سر نو حاصل ہو جائیں ، تا کہ وہ عافیت اور سکون کی زندگی گزار سکے ۔ انسان کو پہلی زندگی کا تجربہ اس لیے کرایا جاتا ہے کہ اُس کے دل سے یہ دعاء نکلے کہ ــــ اے میرے رب ، تو نے جس طرح پہلی زندگی میں میری ضرورت کی تمام چیزیں کسی استحقاق کے بغیر مجھے دے دی تھیں ، اُسی طرح دوسری زندگی میں بھی تو مجھے میری ضرورت کی تمام چیزیں مزید اضافے کے ساتھ دے دے ۔ پہلی زندگی میں میں نے تیرے عطیات کا جو ابتدائی تجربہ کیا تھا ، دوسری زندگی میں تو اُس کو انتہائی صورت میں میرے لیے مقدر کر دے ۔ پہلی زندگی میں تو نے جو کچھ مجھے دیا ، وہ بھی غیر مستحق ہونے کے باوجود مجھے دیا تھا ، دوسری زندگی میں بھی تو غیر مستحق ہونے کے باوجود تمام چیزیں مجھ کو عطا کر دے ۔ پہلی زندگی میرے لیے تیری نعمتوں کا آغاز تھا ، دوسری زندگی میں تو میرے لیے ان نعمتوں کا اتمام فرما دے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues