زندگی کی حقیقت
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
زندگی کی حقیقت
26 ستمبر 2008 کی شام کو نئی دہلی کے پارلیمنٹ انیکسی میں ایک خاص فنکشن تھا۔ یہ فنکشن فاؤنڈیشن فار امیٹی اینڈ نیشنل سالیڈیریٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس انکسی کے مین کمیٹی روم میں آرگنائز کیا تھا۔ یہ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ یہاں موجود تھے۔ پروگرام کے مطابق مشہور جرنلسٹ مسٹر خوشونت سنگھ (پیدائش 1915) کو ان کی خدمات پر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ ایوارڈ لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر سوم ناتھ چٹرجی کے ذریعہ دیا گیا۔ اس موقع پر مسٹر شندے نے کہا کہ مسٹر خوشونت سنگھ کا نظریہ حیات یہ ہے کہ_ زندگی کی اچھی چیزوں سے انجوائے کرو: Enjoy the good things in life. اس موقع پر ان کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی۔ الرسالہ مشن کے تقریباً 10 افراد بھی میرے ساتھ وہاں گئے ۔ ان لوگوں نے انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر تمام لوگوں کو دیا۔ ان میں وہ پمفلٹ بھی شامل تھا جو ریلیٹی آف لائف (Reality of Life) کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ اس پمفلٹ میں زندگی کا بالکل برعکس نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ اس دوسرے نظریہ کو مختصر طور پر ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے_ زندگی میں اچھے کام کرو:
Do good things in life.
اس پروگرام کے چیف گیسٹ مسٹر خوشونت سنگھ تھے۔ ان کی عمر تقریباً 95 سال ہو چکی ہے۔ وہ سیدھے نہیں چل سکتے تھے۔ دو آدمیوں کے سہارے دھیرے دھیرے چل کر وہ اسٹیج پر پہنچے۔ وہ اس طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے چہرے پر کوئی خوشی نہ تھی۔ وہ افسردگی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ جس وقت ان کے تعارف میں ان کا مذکورہ فارمولا بتایا گیا، اس وقت وہ اسٹیج پر اس طرح دکھائی دیتے تھے جیسے کہ وہ کہہ رہے ہوں کہ_ زندگی کا یہ فارمولا اس دنیا میں قابل عمل نہیں: Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy at all.
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues