Al-Risala · September 2009 · page 26

Who was the God who wrote these signs?

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶

نے ایک خصوصی سیٹلائٹ (Cosmic Background Explorer) خلا میں بھیجا۔ اِس سیٹلائٹ نے بالائی خلا کی جو تصویریں بھیجی ہیں، اُن سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے بیرونی حصے میں لہر دار سطح (ripples) موجود ہیں۔ تصویر میں ان لہروں کو دیکھ کر ایک مغربی سائنس داں بولٹزمین (Boltzmann) نے کہا۔ وہ کون خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں :

Who was the God who wrote these signs?

یہ بات صرف بگ بینگ سے نکلی ہوئی لہروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ کائنات میں پھیلی ہوئی بے شمار چیزوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک سنجیدہ انسان جب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے— وہ کون خدا تھا جس نے ان تمام نشانیوں کو لکھا:

Who was the God who wrote all these signs?

کائنات کا جب سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کا کائنات ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے مسلسل طور پر حرکت میں ہیں، مگر ہمارے شہروں کے برعکس، خلا میں کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوتا۔ گویا کہ عظیم خلا میں نہایت وسیع پیمانے پر ایک ایکسیڈنٹ فری ٹریفک (accident-free traffic) قائم ہے۔ ہماری زمین پر پنچپر روزانہ بہت سے واقعات ظہور میں لارہی ہے۔ یہ گویا ایک عظیم صنعتی نظام ہے۔ مگر یہ نظام زیرو ڈیفیکٹ انڈسٹری (zero-defect industry) کی سطح پر چل رہا ہے۔ یہ بے مثال کا کنائی کنٹرول اور یہ آفاقی توازن پکار رہا ہے کہ بلاشبہہ اس کے پیچھے ایک عظیم خدا ہے جو ان واقعات کو ظہور میں لا رہا ہے۔ کائنات میں واضح طور پر ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) پائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم کہکشانی نظام تک یہ منصوبہ بندی نمایاں طور پر ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ یہ منصوبہ بندی بلاشبہہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑا ذہن (mind) کارفرما ہے۔ یہ عقیدہ اتنا ہی سائنسی ہے، جتنا کہ ایکس رے کی قابل مشاہدہ تصویر کو دیکھ کر ناقابل مشاہدہ ایکس ریز (X-Rays) کے وجود کو ماننا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page