Al-Risala · October 2009 · page 6

دعوت اور حفاظت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۶

دعوت اور حفاظت

قرآن کی سورہ نمبر 5 کی ایک آیت یہ ہے: يأيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربّك، وإن لم تفعل فما بلغت رسالته، والله يعصمك من الناس (المائدة: 67) یعنی اے رسول، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچادو۔ اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا: O Messenger, deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and God will protect you from the peoples. قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمے داری یہ تھی کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو مکمل طور پر انجام دیں۔ اسی کام کی انجام دہی پر ان کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کامل حفاظت کا وعدہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے بعد اب یہی حیثیت آپ کی امت کی ہے۔ آپ کی امت کی بھی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر دور میں دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے۔ اس کام کی انجام دہی پر اس کو لوگوں کے مقابلے میں خدا کی حفاظت حاصل ہوگی۔ اور اگر وہ اس ذمے داری کو انجام نہ دے تو خدا کی حفاظت بھی اس کو ملنے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا اُسی وقت متحقق ہوتا ہے، جب کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو درست طور پر انجام دے۔ قرآن کی یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ دعوت الی اللہ امتِ محمدی کی ذمے داری ہے، اور لوگوں کے مقابلے میں اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی ذمے داری۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کوئی بھی دوسرا عمل امتِ محمدی کی حفاظت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اگر کسی وقت امت یہ محسوس کرے کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں غیر محفوظ ہوگئی ہے تو اس کو دوسروں کے خلاف احتجاج (protest) کرنے کے بجائے خود اپنے حال پر غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی غیر محفوظیت کا سبب متعین طور پر یہ ہوگا کہ اس نے دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page