اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲
اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے جب مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔ انھوں نے کہا: إن تريد ملكاً ملكناك علينا (اگر تم حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملك علیکم (میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز (starting point) حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطۂ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو کرنا ہے۔ (re-engineering of mind)
اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) مشتمل ہے۔ فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولیٹکل سسٹم کے معاملے میں حالت موجودہ کو تسلیم کر لینا:
Change in personality, statusquoism in system.
اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولیٹکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سوسائٹی کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کر کے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میں اضافہ کرے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
فرد کے اندر ذہنی تبدیلی سے تحریک کا آغاز کرنے کی صورت میں فی الفور تحریک کو مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ لیکن سسٹم سے آغاز کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آخر کار تحریک ایک بندگلی (blind alley) میں پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی اندھیرا ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی اندھیرا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues