دعوت کا تقاضا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵
دعوت کا تقاضا
دعوت اہلِ ایمان کی ایک لازمی ذمے داری ہے۔ دعوت سے مراد غیرمسلم افراد تک دین حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ اسلام کا اشاعتی کام مسلمانوں کے درمیان بھی کرنا ہے اور غیرمسلموں کے درمیان بھی۔ مسلمانوں کے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام اصلاح ہے، اور غیرمسلموں کے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام دعوت الی اللہ۔
جو لوگ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کریں، اُن کو مسجدوں میں اور مدرسوں میں اور مسلم اجتماعات میں افراد مل جاتے۔ وہ وہاں اسلام کا اشاعتی کام کر سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ غیرمسلموں کے درمیان اسلام کا اشاعتی کام کرنا چاہتے ہیں، وہ کیا کریں۔ اُن کے جو مخاطبین ہیں، وہ ان کو مسجد میں یا مدرسے میں یا مسلم تقریبات میں نہیں مل سکتے۔ غیرمسلم افراد تو صرف اپنے مواقع اجتماع میں ملیں گے، نہ کہ مسلمانوں کے مواقع اجتماع میں۔
دعوت کے اس تقاضے کا واحد حل یہ ہے کہ داعی، غیرمسلموں کے اپنے اجتماعات میں جائے اور وہاں وہ ممکن دائرے میں اپنا دعوتی کام کرے۔ لیکن یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غیرمسلم اپنے اجتماعات ہماری شرطوں پر نہیں کر سکتے۔ یہ یقینی ہے کہ غیرمسلم اپنے جو اجتماعات کریں گے، وہ خود اپنی روایت اور اپنے کلچر کے مطابق کریں گے۔ ایسی حالت میں غیرمسلموں کے مواقع اجتماعات کو دعوتی مقصد کے لیے استعمال کرنا صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اسلام کے اُس اصول کو اختیار کیا جائے جس کو قرآن میں اعراض (avoidance) کہا گیا ہے (الأعراف: 199) یعنی ایسے مواقع پر اکٹھا ہونے والے لوگوں سے ملنا اور اُن کو اسلامی لٹریچر دینا، اور ان مواقع پر جو چیزیں غیرمسلموں کے اپنے کلچر سے تعلق رکھتی ہیں، اُن سے اعراض یا صرفِ نظر کا معاملہ کرنا۔ صبر و اعراض دعوت کا لازمی تقاضا ہے، صبر و اعراض کے بغیر دعوت کے کام کو مؤثر طور پر انجام دینا ممکن نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس حکمتِ دعوت کا عملی نمونہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues